تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 325
معنے بہتر اور پاک مال کے ہیں۔اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اچھے اور پاک مال میں سے خرچ کرو۔یہ نہیں کہ پُرانی اشیاء یا دوسروں کے اموال اٹھا کر دے دو۔(۶) بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ و خیرات خوب دل کھول کر کرو۔جس جماعت نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ جو ضرورت سے زائد بچے اسے خرچ کرو۔اس نے بھی اسے یا تو جہاد پرچسپاں کیا ہے یا منسوخ قرار دیا ہے۔اور وہ اس بات پر مجبور بھی تھے کیونکہ وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے عمل اور اُمتِ اسلامیہ کے طریق کو اس کے خلاف دیکھتے تھے۔ا حادیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ اپنے اخراجات نکال کر باقی سارا مال تقسیم کر دینا اسلامی حکم نہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یَجِیْءُ اَحَدُکُمْ بِمَالِہٖ کُلِّہٖ یَتَصَدَّقُ بِہٖ وَیَجْلِسُ یَتَکَفَّفُ النَّاسَ اِنَّمَا الصَّدَ قَۃُ عَنْ ظَھْرِ غِنًی (البحر المحیط سورۃ البقرۃ زیر آیت ھٰذا ) یعنی تم میں سے بعض لوگ اپنا سارا مال صدقہ کے لئے لے آتے ہیں اور پھر لوگوں کے آگے سوال کےلئے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔صدقہ صرف زائد مال سے ہوتا ہے۔ا سی طرح فرماتے ہیں اِنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَاءَ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَذَرَھُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ(البحر المحیط زیر آیت ھذا) یعنی اگر تو اپنے ورثاء کو دولت مند چھوڑ جائے تو یہ زیادہ اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ تو ان کو غریب چھوڑ جائے۔اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ حضر ت سعد بن ابی وقاص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ثلث مال کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی مگر آپ نے انہیں منع فرمایا۔پھر انہوں نے آدھا مال تقسیم کرنا چاہا تو اس سے بھی منع فرمایا پھر انہوں نے تیسرے حصہ کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی تو اس حصہ کی آپؐ نے اجازت دے دی مگر ساتھ ہی فرمایا اَلثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ ( ترمذی کتاب الوصایا باب ما جاء فی الوصیۃ فی الثلث)یعنی تیسرے حصہ کی وصیت کر دو گو ثلث بھی کثیر ہے۔غرض یہ خیال کہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ جو مال ضرورت سے زائد بچے اُسے تقسیم کر دینا چاہیے بالکل خلاف اسلام اور خلاف عمل ِ صحابہؓ ہے جن میں سے بعض کی وفات پر لاکھوںروپیہ ان کے ورثاء میں تقسیم کیا گیا (اُسد الغابۃ، عبد الرحمٰن بن عوفؓ)۔پھر اگر اسلام کا یہی حکم تھا تو زکوٰۃ کا حکم دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی؟ جب سب مال جو ضرورت سے زائد ہو تقسیم کر دینے کا حکم ہے تو زکوٰۃ مقرر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اور پھر ضرورت سے بچے ہوئے کی اصطلاح خود مبہم ہے۔بعض لوگ جو کچھ ان کو مل جائے گو لاکھوں روپیہ ہی کیوں نہ ہو خرچ کر دیتے ہیں اور ضرورت سے زائد ان کے خیال میں کوئی مال ہوتا ہی نہیں۔پھر بعض لوگ اپنا سب مال تجارت وغیرہ میں لگائے رکھتے ہیں۔ان کے پاس بھی ضرورت سے زیادہ نہیں بچ