تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 319
کے بلکہ بعض صورتوں میں حکم کے ان مذاہب کے بڑے بڑے آدمیوں نے شراب کی مضرتوں کو دیکھ کر یہ بھی محسوس کر لیا تھا کہ اگر شراب کا استعمال اسی طرح جاری رہا تو ان کی قومیں کیا بلحاظ صحت و تندرستی کے اور کیا بلحاظ اخلاق و آداب کے بہت گر جائیں گی۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے عالم سے ہی ایسے لوگ ہوتے چلے آئے ہیں جو یہ تحریک کرتے رہے ہیں کہ شراب کا استعمال کم کیا جائے اور اعتدال کو ہر حالت میں مدنظر رکھا جائے۔تمام مشرقی ممالک کی تاریخ(اور یہی ممالک پرانے زمانہ میں تہذیب و تمدن کے جھنڈے کوبلند کرنے والے تھے) اس بات پر شاہد ہے کہ قدیم سے قدیم زمانہ سے ہندوستان، ایران، چین۔فلسطین۔مصر۔یونان اور کارتھج کے علماء مذہبی فلاسفر اور مقنّن بدمستی سے دور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔لیکن ان کی کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا یہی کہ اگر بعض آدمیوں نے کچھ مدت کے لئے شراب کا استعمال کم کر دیا تو کچھ عرصہ کے بعد پھر تما م کا تمام ملک اس ’’آب حیات‘‘ سے اپنی روح کو تازہ کرنے کے لئے دوڑپڑا۔امریکہ کو ہی دیکھ لو۔امریکہ میں شراب نوشی کے انسداد کے لئے حکومت نے کتنی کوششیں کیں۔لیکن چونکہ ایمان ان لوگوں کے دلوں میں نہیں تھا بلکہ ممانعتِ شراب کے پیچھے صرف ایک قانون کا م کر رہا تھا اس لئے یہ تحریک ناکام رہی۔ہزار ہا موتیں صرف اس وجہ سے واقعہ ہوئیں کہ لوگ شراب پینے کے شوق میں سپرٹ پی لیتے اور سپرٹ میں چونکہ زہر یلی چیزوں کی آمیزش ہوتی ہے اس لئے کئی اندھے ہو جاتے اور کئی مر جاتے۔پھر امریکہ میںنصف سے زیادہ ایسے لوگ تھے جو باہر سے ناجائز طور پر شرابیں منگواتے اور پیتے۔گورنمنٹ کا قانون تھا کہ ڈاکٹر کے سرٹیفیکیٹ کے بغیر کسی شخص کو شراب نہیں مل سکتی اس قانون کی وجہ سے ہزاروں ڈاکٹروں کی آمدنیاں پہلے سے کئی گنا بڑھ گئیں وہ فیس لے کر سرٹیفیکیٹ دے دیتے کہ فلاں شخص کا معدہ کمزور ہےیا اور کوئی ایسی بیماری ہے اسے پینے کےلئے شراب ملنی چاہیے۔غرض ہزاروں ڈاکٹروں کا گذارہ محض اسی قسم کے سر ٹیفیکیٹوں پر ہو گیا اور باوجود شراب نوشی کے خلاف قانون بن جانے کے لوگ کئی قسم کے حیلوں سے کوشش کرتے کہ کسی طرح قانون شکنی کریں۔غرض کسی ملک میں کسی مدبّر، کسی مقنّن، کسی واعظ اور کسی فلاسفر کی کوشش کا یہ نتیجہ نہیں نکلا کہ لوگوں نے واقعہ میں شراب کم کر دی ہو۔اور وہ اس عہد پر قائم رہے ہوں۔اگر ایک جماعت نے اس کا استعمال کم کر دیا تودوسری نے اس کی کسر پوری کر دی۔شراب بہر حال اپنے مرکز پر قائم رہی اور اسے کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ ہلا سکا۔اب آئو اور اس کے مقابلہ میںاس تاثیر کو دیکھو جو انسدادِ شراب نوشی کے متعلق اسلام کو حاصل ہے اسلام اس وقت دنیا میں آیا جبکہ علم و سائینس کا رواج دنیا میں بہت کم تھا۔یونانی علوم اپنی ترقی کی انتہا کو پہنچ کر مسیحی پادریوں کی