تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 318
وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک ایسا رسول آیا جو اس (کتاب) کو جو ان کے پاس ہے سچاکرنے والا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ ہےتو ان لوگوں میں سے جنہیں (وہ) کتاب دی گئی تھی ایک فریق نے اللہ کی (تازہ) کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَٞ۰۰۱۰۲ پھینک دیا۔گویا کہ وہ (اسے) جانتے ہی نہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا بلاوا آتا ہے تو ایک فریق اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لیتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی آواز کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔حالانکہ خدا کا بلاوا کوئی معمولی چیز نہیں۔اگر ایک معمولی افسر کا بھی بلاوا آجائے تو بسا اوقات انسان پھولا نہیں سماتا۔مگر خدا تعالیٰ کا بلاوا آتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔حالانکہ اگر دل میں نورِ ایمان ہو تو اس آواز کو سُن کر انسان پر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہو جانی چاہیے۔دنیا کے اعزازاس کے مقابلہ میں کیا چیز ہیں؟ خدا تعالیٰ خود بندوں کو یاد کرتا ہے۔اور اپنا نبی اُن میں بھیجتا ہے مگر لوگ ایسے بیوقوف ہوتے ہیں کہ وہ اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔حالانکہ اُس آواز پر لبیک کہنا اُن کے لئے فخر کا موجب ہوتا ہے۔اِسی طرح یہود کو تو خوشی منانی چاہیے تھی کہ ہماری کتابوں کی سچائی ظاہر ہو رہی ہے اور یہ نبی اُن کی کتابوں اور بزرگوںکی تصدیق کرتا ہے۔مگر وہ قوم جو غلط رویہ اختیار کر چکی ہو وہ ایسا کس طرح کر سکتی ہے؟ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ سے یہی مراد ہے کہ اِس رسول نے اپنی بعثت کے ساتھ اُن پیشگوئیوں کو پورا کر دیا ہے جو خدا تعالیٰ نے ان کتابوں میں بیان فرمائی تھیں جو یہود کے پاس ہیں۔گویا اس رسول کے ذریعہ اسرائیلی نبیوں کی صداقت واضح ہو رہی ہے۔پس اس رسول پر ایمان لانا درحقیقت اُن کا اپنے سابق الہامی کلام کی تصدیق کرنا اور اُس کے حکموں کی تعمیل کرنا ہے۔اور اگر یہ لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے تو یہ اپنی کتاب اور اپنے نبیوں کی پیشگوئیوں کو جھٹلاتے ہیں۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مُصَدِّق ہیں موسیٰ ؑکے۔مُصّدِق ہیں تورات کے۔مُصّدِق ہیں تمام اسرائیلی نبیوں کے مگر ان معنوں میں نہیں کہ تورات اپنی موجودہ حالت میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یا موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑاور دوسرے نبیوں پر ایمان لانا ہی کافی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں بلکہ وہ صرف