تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 320

سعی سے گوشہ گمنامی میں جا بیٹھے تھے اور سوائے معدودے چند آدمیوں کے دوسرے لوگ ان سے ناواقف تھے۔خصوصاً ایشیائے کوچک پر جس کا ان علوم کی ترقی میں خاص حصہ تھا سخت اندھیراچھا یا ہوا تھا۔ہندوستانی فلسفہ بھی تنزل پر تھا۔ایران بھی اخلاقی اور علمی طور پر انحطاط کی طرف قدم زن تھا۔اور عربوں کی حالت توسخت ناگفتہ بہ تھی۔حجازی عربوں میں پڑھنا لکھنا ہی بہت بڑا علم تھا۔اور اس فن کے واقف بھی چند آدمیوں سے زیادہ نہ تھے۔علم الاخلاق ان کے ہاں وہی تھا جو ان کے شاعروں نے اپنے شعروں میں نظم کیا اور علم طب ان کے ہاں وہی تھا جو ان کی بڑی بوڑھیاں بطور صدری نسخوں کے یکے بعد دیگرے ایک دوسری کو سناتی چلی آئی تھیں۔اور وہ علم الاخلاق جس کی طرف ان کے شاعروں نے راہنمائی کی ہے یہی ہے کہ شراب انسان کے اخلاق کو اعلیٰ کرتی ہے اور اسے دلیر اور سخی بناتی ہے اور یہی دو خصائل ہیں جن کی عرب پر واہ کرتا تھا۔اس کے نزدیک تمام علم الاخلاق انہیں دو صفات میں مرکوز تھا اور ان کا علمِ طب بھی ان کو یہی ہدایت کرتا تھا کہ ہر مرض کا علاج شراب کا جام ہے پس عرب اپنے علوم کے لحاظ سے شراب سے متنفر نہیں بلکہ اس کا دلدادہ تھا۔ہرعرب شراب کا عادی تھا اور عادی بھی ایسا کہ اس کے روز مرہ کے شغلوں میں سے سب سے بڑا شغل ہی شراب نوشی تھا۔عرب کے شعروں کو پڑھو شراب کے ذکر سے ان کی کوئی نظم خالی نظر نہیں آتی۔عرب کا مشہور شاعر طرفہؔ جو اپنی زبان کی خوبی اورمضامین کی بلندی کی وجہ سے عرب کا دوسرے نمبر کا شاعرسمجھا جاتا ہے لکھتا ہے۔؎ وَ اِنْ تَبْغِنِیْ فِیْ حَلْقَۃِ الْقَوْمِ تُلْفِنِیْ وَاِنْ تَقْتَنِصْنِیْ فِی الْحَوَانِیْتِ تَصْتَدِیْ کَرِیْمٌ یُرَوِّیْ نَفْسَہٗ فِیْ حَیَاتِہٖ سَتَعْلَمُ اِنْ مِتْنَا غَدًا اَیُّنَا الْصَّدِیْ (کتاب الشعرو الشعراء لابن قتیبۃ) یعنی اگر تو میری تلاش قوم کی مجلس شوریٰ میں کرے تو تُو مجھے وہاں پائےگا۔یعنی میں باوجود نو عمر ہونےکے قوم کا معتمد ہوں(یہ صرف بیس سال کی عمر میں مارا گیا تھا) اور اگر تو مجھے شراب کی دو کانوں پر تلاش کرے تو وہاں بھی مجھے پائے گا۔یعنی دو ہی مقام ہیں جہاں میں مل سکتا ہوں اپنی دانائی کی وجہ سے قوم کی مجلس شوریٰ میں مجھے جانا پڑتا ہے اور اپنی شراب نوشی کی وجہ سے شراب خانوں پر میرا پھیرا رہتا ہے۔پھر کہتا ہے میں وہ شریف النفس ہوں کہ اپنے نفس کو میں نے اس زندگی میں سیراب کر دیا ہے۔اور اگر اے دوستو!ہم مر جائیں تو تم کو بعد مردن معلوم ہو جائےگا کہ کون پیاسا