تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 288

ہیں باوجود اس کے کہ دوسری طرف سے اُن کی خیر خواہی اور ترقی کے سامان ہو رہے ہیں۔فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ۔اس میں چوتھا جواب دیا ہے کہ اختلاف کا الزام نبیوں پر نہیں آسکتا اور وہ یہ کہ اُن کے آنے سے پہلے تو دیکھو کہ کوئی بھی حق کا ماننے والا نہ تھا۔مگر اب ایک پارٹی تو حق کو مانتی ہے۔پس اختلاف درحقیقت مٹ گیا پیدا نہ ہوا۔کیونکہ پہلے مثلاً ایک لاکھ آدمی خدا تعالیٰ کے متعلق اٹکل پچو باتیں بنا رہے تھے۔اب ایک ہزار نے مان لیا اور ننا نوے ہزار نے نہ مانا تو اختلاف کم ہوا یا زیادہ۔ایک ہزار آدمی اس خیالی اختلاف سے نکل کر یقین اورو ثوق کے مقام پر آکھڑے ہوئے جہاں سے اللہ تعالیٰ کے جلال کا مشاہدہ ہوتا ہے۔پس اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس چیز کی طرف ہدایت دی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا یعنی جس کا ذکر وَ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ میں ہوا تھا۔اِخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ میں فِیْہِ کی جو ضمیر ہے الْـحَقّ اُس کی صفت ہے۔یعنی اُس چیز کی طرف جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اور جس کی صفت یہ ہے کہ وہ حق ہے یا حق میں سے ہے۔یا مِنْ بیان کےلئے ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہدایت کی اُس چیز کی طرف جس کی نسبت لوگوں نے اختلاف کیا تھا حالانکہ وہ حق تھی۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پہلے ہی مومن تھے تو ھَدَی اللّٰہُ کے کیا معنے ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی پچھلی بات کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ نام لے لیا کرتے ہیں جیسے کہتے ہیں یہ بادشاہ جب پیدا ہوا تو یوں ہوا۔حالانکہ وہ پیدائش کے وقت بادشاہ نہیں ہوتا۔یا کہتے ہیں یہ عالم جب سکول میں پڑھنے گیا۔پس اَ لَّذِیْنَ اٰمِنُوْااُن کا موجودہ نام ہے جس کو پرانے واقعہ کو دہراتے وقت قائم رکھا۔تاکہ اُن کا احترام قائم رہے اور اُن کی طرف کفر کسی وقت بھی منسوب نہ ہو۔یا یہ کہ استعداد مخفی جواُن کے اندر تھی اس کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ا نہیں الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کہا گیا ہے۔یعنی وہ جو مومن بننے والے تھے اور اس کےلئے سامان بہم پہنچا رہے تھے۔فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگوں نے کتاب الٰہی کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے اُن سب وعدوں کو جو اس نبی کے ذریعہ سے اپنی قوم کے متعلق تھےمٹھی بھر مومنوں کے حق میں پورا کر دیا اور مومنوں کو وہ کامیابیاں دے دیں جو سب قوم کے لئے مقدر تھیں۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں بھی اشارہ ہے کہ ہر شخص کے دو گھر ہیں ایک جنت میں اور ایک دوزخ میں جب کوئی ظلم کرے تو اللہ تعالیٰ ظالم کا جنت کا گھر مومن کو اور اس کا دوزخ کا گھر کافر کو دے دیتا ہے۔کفار نے چونکہ بلاوجہ کتابِ الٰہی کی مخالفت کی اور اس کے سبب سے مومنوں کو سخت دُکھ برداشت کرنے پڑے خدا تعالیٰ نے