تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 289

حکم دے دیا کہ وہ انعامات جو ساری قوم کے لئے مقدر تھے وہ مٹھی بھر مسلمانوں کو دے دیئے جائیں اور باقی قوم کو بوجہ ظالم ہونے کے ان سے محروم کر دیا جائے۔اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ تم پر ابھی ان لوگوں کی (سی تکلیف کی) حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ گذرے ہیں تم جنت میں داخل ہو جاؤگے۔انہیں تنگی بھی پہنچی اور تکلیف بھی۔اور انہیں خوب خوف دلایا گیا تاکہ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ (اس وقت کا) رسول اور اس کے ساتھ (کے) ایمان لانے والے کہہ اٹھیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ۰۰۲۱۵ یاد رکھو اللہ کی مدد یقیناً قریب ہے۔حلّ لُغات۔مَسَّتْھُمْ مَسَّ الشَّیْءَ کے معنے ہیں لَمَسَہٗ وَاَفْضٰی اِلَیْہِ بِیَدِہٖ مِنْ غَیْرِ حَائِلٍ کسی چیز کو بغیر کسی درمیانی روک کے اس نے چُھوا۔(اقرب) بَاْسَآء کے معنے ہیں اَلشِّدَّۃُ سختی وَاِسْمٌ لِلْحَرْبِ وَالْمُشَقَّۃِ وَالضَّرْبِ۔اور بَاْسَاء کے لفظ کا اطلاق جنگ اور مشقت اور جسمانی تکالیف پر بھی ہوتا ہے۔(اقرب) ضَرَّآءُ کے معنے ہیں اَلزَّمَانَۃُ وَالشِّدَّۃُ قحط۔اَلنَّقْصُ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ۔مالی اور جانی نقصان۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں ان ابتلائوں کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں پر آنے والے تھے۔چونکہ اس سے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ جب دنیا پرضلالت چھا جاتی ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی آتا ہے جس کی لوگ مخالفت کرتے ہیں۔اس لئے اب فرماتا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ بغیر ابتلائوں کے تم ترقی کر جائو گے۔تمہاری ترقی ابتلائوں کے آنے پر ہی موقوف ہے جیسا کہ پہلوں کی ترقی کا باعث بھی ابتلاء ہی ہوئے۔چنانچہ اس کا نقشہ کھینچتے