تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 287

کوئی اختلاف نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ اختلاف اُس نبی یا اُس کتاب یا اس تعلیم کے نتیجہ میں نہیں ہے۔کیونکہ اگر فی الواقعہ وہ تعلیم جو ہم نے بھیجی ہے یا نبی جو بھیجا ہے اختلاف کا موجب ہوتے تو جو لوگ بے تعلق ہیں مثلاً غیر اقوام جو اُن کی مخاطب نہیں یا بعد میں آنے والے لوگ وہ کیوں ان کی تعلیم کی تعریف کرتے۔واقعہ میں اگر دیکھا جائے تو نبیوں کی مخالفت کا زمانہ جب گذر جاتا ہے۔تو لوگ اُن کی تعلیم کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔جیسے اب مسیح ؑ کی تعلیم کی لوگ تعریف کرتے ہیں۔ابراہیم ؑاور موسیٰ ؑاور زرتشت ؑ کی تمام اقوام تعریف کرتی ہیں۔حالانکہ اُس کتاب کی لوگ مخالفت کرتے ہیں جس میں وہ مخاطب ہوں۔پس معلوم ہوا کہ اصل وجہ تعلیم یا نبی نہیں ہوتا۔بلکہ یہ بات ہوتی ہے کہ ہم اس کی اطاعت کس طرح کریں۔یا ان احکام کو مان کر ہمارے آرام میں خلل آئے گا۔جب دوسرے لوگ مخاطب ہوں تو خوب تعریف کرتے ہیں کہ واہ وا! کیا اچھی تعلیم ہے۔تیسری بات بَغْیًا بَیْنَھُمْ میں یہ بیان فرمائی کہ یہ اختلاف بھی درحقیقت اس کتاب کی وجہ سے نہیں پیدا ہوا بلکہ درحقیقت پہلے اختلاف کا نتیجہ ہے۔نبی آنے سے پہلے جو سرکشی اور عداوت آپس میں لوگوں کی پیدا ہو چکی تھی وہی اس تعلیم کی مخالفت پر لوگوں کو آمادہ کر رہی ہے۔یا یہ سوال ہے کہ اس نبی کو ہم کیونکر مان لیں ؟ یا یہ کہ فلاں نے اِسے مان لیا ہے اب ہم کس طرح مان لیں؟ یا یہ فلاں عقیدہ کی جو ہمارے دشمنوں کا ہے تائید کرتا ہے۔اس کو مان لیں تو اُن کے سامنے ہماری نظریں نیچی ہو جائیں۔جیسے حنفی کہتے ہیں کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہابیوں کی فلاں فلاں باتوں کی تائید کی ہے اس لئے ہم انہیں نہیں مانتے۔اِسی طرح وہابی کہتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے حنفیوں کی بعض باتوں کی تائید کی ہے اس لئے ہم آپ کو قبول نہیں کر سکتے۔پس نبی کو نہ ماننے کی وجہ وہ عداوت ہوتی ہے جو اس نبی کے آنے سے پہلے اُن میںموجود ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نبی کے آنے کے بعد ایک جماعت ایسی پیدا ہو جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ماننے والی اور اس کے احکام پر عمل کرنے والی ہوتی ہے اس لئے گو اس کے آنے سے بھی اختلاف نظر آتا ہے۔لیکن روحانی نگاہ رکھنے والا جانتاہے کہ نبی کے آنے سے اختلاف کی قوت کم ہو جاتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سے دور رہنے والے لوگ گھٹ جاتے ہیں اور ایک بڑی جماعت ایسی پیدا ہو جاتی ہے جو خدائے واحد کی پرستار ہوتی ہے۔غرض اختلاف اس کتاب کے سبب سے نہیں بلکہ پہلے اختلاف کے باعث لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیںجو ان لوگوں کے اندر پہلے سے موجود تھایا یہ کہ وہ بَـغِیْ جو بَیْنَھُمْ ہے۔یعنی ساری کی ساری اُنہی کے قبضہ میں ہے۔ہمارے رسولوں اور اُس کے اتباع میں اس کا کوئی حصہ نہیں وہ اس اختلاف کا باعث ہے۔اس سے الزام اور بھی سخت ہو جاتا ہے کہ یہ بغی کرتے