تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 270

ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رکھے اور جب بھی اس کی طرف سے آواز آئے وہ فوراً اپنا سر قربانی کے لئے جھکا دے اور اس کی راہ میں اپنی جان تک دینے سے بھی دریغ نہ کرے۔پھر سات طواف سات سعی اور سات ہی رمی ہیں۔اس سات کے عدد میں روحانی مدارج کی تکمیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہ اس کے بھی سات ہی درجے ہیں جن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔چنانچہ سورہ مومنون میں ان درجات کی تفصیل دی گئی ہے۔اسی طرح حجر اسود کو بوسہ دینا بھی ایک تصویری زبان ہے۔بوسہ کے ذریعہ انسان اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ میں اس وجود کو جس کو مَیں بوسہ دے رہا ہوں اپنے آپ سے جدارکھنا پسند نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے جسم کا ایک حصہ بن جائے۔غرض حج ایک عظیم الشان عبادت ہے جو ایک سچے مومن کے لئے ہزاروں برکات اور انوار کا موجب بنتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ آجکل مسلمان صرف رسمی رنگ میں یہ فریضہ ادا کرنے کی وجہ سے اس کی برکات سے پوری طرح متمتع نہیں ہوتے۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ اور بعض آدمی ایسے (بھی ہوتے ) ہیں جن کی باتیں (اس)دنیا کی زندگی کے متعلق تجھے (بہت) پسندیدہ معلوم ہوتی يُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِيْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ۰۰۲۰۵ ہیں اور وہ (بات کرتے وقت) اللہ کو اس (اخلاص) پر جو ان کے دل میں ہے گواہ ٹھہراتے (جاتے) ہیں۔حالانکہ وہ (حقیقت میں) سب جھگڑالوؤں سے زیادہ جھگڑالو ہوتے ہیں۔حل لغات۔اَلَدُّ الْخِصَامِ اَلَدُّ لَدَّ یَلِدُّ سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اَلَدُُّّ کے معنے ہیں شَدِ یْدُ الْخُصُوْ مَۃِ۔وہ دشمن جو دشمنی میں بہت بڑھا ہوا ہو۔خِصَامٌ یہ مصدر ہے جس کے معنے مجادلہ یعنی جھگڑے کے ہیں(اقرب)۔تفسیر۔فرماتا ہے۔دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جب وہ کسی مجلس میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کرتے ہیں تو تم سمجھتے ہو واہ وا یہ کتنے عقلمند اور سمجھدار ہیں!! یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے سارے علوم پر حاوی ہیں اور ان کی عقل کو کوئی پہنچ نہیں سکتا اور پھر وہ اپنی دینداری کے متعلق اتنا یقین لوگوں کو دلاتے ہیں کہ کہتے ہیں خدا کی قسم! ہمارے دل میں جو نیکیاں بھر ی ہوئی ہیں ان کو کوئی نہیں جانتا ہم سے مشورہ لیا جائے تو ہم یوں کر دیں وُوں