تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 271

کردیں مگر فرماتا ہے حقیقت کیا ہوتی ہے؟ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ بدترین دشمن جوتمہارے ہو سکتے ہیں وہ ان سے بھی زیادہ جھگڑا لو اور خطرناک ہوتا ہے وہ ہوتا تمہارے ساتھ ہے وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب کسی مجلس میں بیٹھ جاتا ہے تو ساری مجلس پر چھا جاتا ہے اور اپنی دینداری او ر تقویٰ پر قسمیں کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا دل تو قوم کے لئے گھلا جا رہا ہے۔جب دیکھنے والا اسے دیکھتا ہے اورسننے والا اس کی باتیں سنتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ قطب الاقطاب بیٹھا ہے مگر فرماتا ہے۔دنیا میں تمہارے یہودی بھی دشمن ہیں۔عیسائی بھی دشمن ہیں او رقومیں بھی دشمن ہیں مگر یہ ان سے بھی بڑا اور خطرناک دشمن ہوتا ہے۔بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کا ایک مجسمہ ہے لیکن معاملہ برعکس ہوتا ہے وہ کوئی دینی نکتے بیان نہیں کرتا بلکہ دنیوی امور کے متعلق ایسی باتیں کرتا ہے جو بظاہر تو بڑی اچھی معلوم ہوتی ہیں مگر درحقیقت ان کی تہہ میں منافقت کام کر رہی ہوتی ہے۔اور پھر ا س کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتا چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خداگواہ ہے میرے دل میں تو اخلاص ہی اخلاص ہے اور میں تو محض اپنے دوستوں کی خیر خواہی اور بھلائی کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں۔فرماتا ہے تم ایسے شخص کی چکنی چپڑی باتوں سے کبھی دھوکا نہ کھائو۔اور جب بھی تمہیں کوئی ایسا شخص نظر آئے۔فوراً لاحول پڑھ کر اس سے علیٰحدہ ہو جائو اور سمجھ لو کہ تمہارے سامنے ایک شیطان بیٹھا ہے جو قسمیں کھا کھا کر اور اپنی خیر خواہی کا لوگوں کو یقین دلا دلا کر انہیں دھوکا اور فریب دے رہا ہے۔وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ اور جب حاکم ہو جاتے ہیں تو فساد (پیدا) کرنے اور کھیتی (باڑی) اور مخلوق کو ہلاک کرنے کی غرض سے (سارے) وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۰۰۲۰۶ ملک میں دوڑتے پھرتے ہیں۔حالانکہ اللہ (تعالیٰ) فساد کو پسند نہیں کرتا۔حل لغات۔تَوَلّٰی وَلِیَ سے باب تفعُّل ہے اور اَلتَّوَلِّیْ کے معنے ہیں اَلْاِنْصِرَافُ بِالْبَدْنِ اَوِالْقَوْلِ۔بدن کے ساتھ پھر جانا یعنی پیٹھ پھیر لینا۔مرتد ہو جانا یا (۲)اپنی بات سے پھر جانا(۳) حاکم اور والی بن جانا۔(لسان العرب) اَلْحَرْثُ کے معنے ہیں مَایَسْتَنْبُتُ بِالْبَذْرِ وَالنَّوٰی وَالْغَرْسِ۔یعنی جو چیز بیج گٹھلی یا پودے سے اُگائی