تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 269
خدا کو ملنے اور شیطان سےکامل نفرت اور علیحدگی کا اظہار کرنے کے لئے جاتے ہیں۔پھر عرفات ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اب ہمیں خدا تعالیٰ کی پہچان اور اس کی معرفت حاصل ہو گئی ہے اور ہم اس سے مل گئے ہیں۔اس کے بعد مزدلفہ ہے جو قرب کے معنوں پر دلالت کرتا ہے اور جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ وہ مقصد جس کی ہم تلاش کر رہے ہیں وہ ہمارے قریب آ گیا ہے۔اسی طرح مشعر الحرام جو ایک پہاڑی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مخلصانہ عقیدت اور ابراہیم کے جذبات ہمارے دلوں میں پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خاص طور پر دعائیں فرمایا کرتے تھے۔پھر مکہ مکرمہ ایسی جگہ ہے جہاں سوائے چند درختوں اور اذخر گھاس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ہر جگہ ریت ہی ریت اور کنکر ہی کنکر ہیں اور کچھ چھوٹی چھوٹی گھاٹیاں ہیں۔غرض وہ ایک نہایت ہی خشک جگہ ہے نہ کوئی سبزہ ہے نہ باغ دنیا کی کشش رکھنے والی چیزوں میں سے وہاں کوئی بھی چیز نہیں۔پس وہاںجانا صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے قرب اور رضا کے لئے ہی ہو سکتا ہے اور یہی غرض حج بیت اللہ کی ہے پھر احرام باندھنے میں بھی ایک خاص بات کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ انسان کو یوم الحشر کا اندازہ ہو سکے کیونکہ جیسے کفن میں دو چادریں ہوتی ہیں۔احرام میں بھی دو ہی ہوتی ہیں۔ایک جسم کے اوپر کے حصہ کے لئے اور دوسری نیچے کے حصہ کے لئے۔پھر سر بھی ننگا ہوتا ہے اور عرفات وغیرہ میں یہی نظارہ ہوتا ہے۔جب لاکھوں آدمی اس شکل میں وہاں جمع ہوتے ہیں توحشر کا نقشہ انسان کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم خدا تعالیٰ کے سامنے ہیں اور کفن میں لپٹے ہوئے ابھی قبروں سے نکل کر اس کے سامنے حاضر ہوئے ہیں پھر حج بیت اللہ میں حضرت ابراہیم ؑ حضرت اسمٰعیلؑ حضرت ہاجرہ ؑ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات زندگی انسان کی آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور اس کے اندر ایک نیا ایمان اور عرفان پیدا ہوتا ہے۔یوں تو اور قوموں نے بھی اپنے بزرگوں کے واقعات تصویری زبان میں کھینچنے کی کوشش کی ہے جیسے ہندو دسہرہ میں اپنے پُرانے تاریخی واقعات دہراتے ہیں مگر مسلمانوں کے سامنے خدا تعالیٰ نے ان کے آبائو اجداد کے تاریخی واقعات کو ایسی طرز پر رکھا ہے کہ اس سے پرانے واقعات کی یا د بھی تازہ ہو جاتی ہے۔اور آئندہ پیش آنے والے حادثہ یعنی قیامت کا نقشہ بھی آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتا ہے۔اسی طرح رمی الجمار کی اصل غرض بھی شیطان سے بیزاری کا اظہار کرنا ہےاور ان جمار کے نام بھی جمرۃ الدنیا، جمرۃ الوسطیٰ اور جمرۃ العقبیٰ اس لئے رکھے گئے ہیں کہ انسان اس امر کا اقرار کرے کہ وہ دنیا میں بھی اپنے آپ کو شیطان سے دور رکھے گا اور عالم برزخ اور عالم عقبیٰ میں بھی ایسی حالت میں جائےگا کہ شیطان کا کوئی اثر اُس کی روح پر نہیں ہو گا۔اسی طرح ذبیحہ سے اس طرف توجہ دلائی جاتی