تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 268
انسانی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔اور اسے احساس ہوتا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر چاروں طرف سے لوگوں کو اس گھر کے گرد جمع کر دیا ہے۔جب انسان بیت اللہ کو دیکھتا ہے اور اس پر اس کی نظر پڑتی ہے تو اس کے دل پر ایک خاص اثر پڑتا ہے اور وہ قبولیت دعا کا ایک عجیب وقت ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے حج کیا تو میں نے ایک حدیث پڑھی ہوئی تھی کہ جب پہلے پہل خانہ کعبہ نظر آئے تو اس وقت جو دعا کی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔فرمانے لگے اس وقت میرے دل میںکئی دعائوں کی خواہش ہوئی لیکن میرے دل میں فوراً خیال پیدا ہوا کہ اگر میں نے یہ دعائیں مانگیں اور قبول ہو گئیں۔اور پھر کوئی اور ضرورت پیش آئی تو پھر کیا ہو گا پھر تو نہ حج ہو گاا ور نہ یہ خانہ کعبہ نظر آئےگا۔کہنے لگے تب میں نے سوچ کر یہ نکالا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں کہ یا اللہ! میں جو دعا کیا کروں وہ قبول ہوا کرے۔تاکہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے۔میں نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہوئی تھی۔جب میں نے حج کیا تو مجھے بھی وہ بات یاد آگئی۔جونہی خانہ کعبہ نظر آیا ہمارے نانا جان نے ہاتھ اُٹھائے کہنے لگے دُعا کر لو۔وہ کچھ اور دُعائیں مانگنے لگ گئے مگر میں نے تو یہی دُعا کی کہ یا اللہ! اس خانہ کعبہ کو دیکھنے کا مجھے روز روز کہاں موقعہ ملے گا۔آج عمر بھر میں قسمت کے ساتھ موقع ملا ہے پس میری تو یہی دُعا ہے کہ تیرا اپنے رسول سے وعدہ ہے کہ اس کو پہلی دفعہ حج کے موقعہ پر دیکھ کر جو شخص دعا کرےگا وہ قبول ہو گی۔میری دُعا تجھ سے یہی ہے کہ ساری عمر میری دُعائیں قبول ہوتی رہیں۔چنانچہ اس کے فضل اور احسان سے میں برابر یہ نظارہ دیکھ رہا ہوں کہ میری ہر دعا اس طرح قبول ہوتی ہے کہ شاید کسی اعلیٰ درجہ کے شکاری کا نشانہ بھی اس طرح نہیں لگتا۔اسی طرح بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے وقت جب انسان دیکھتا ہے کہ ہزاروں لوگ اس کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور ہزاروں ہی اس کے گرد نمازیں پڑھ رہے ہیں تو اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ میں دنیا سے کٹ کر خدا تعالیٰ کی طرف آگیا ہوں اور میرا بھی اب یہی کام ہے کہ میں اس کے حضور سربسجود رہوں۔پھر سعی بین الصفا و المروۃ میں حضرت ہاجرہ ؑ کا واقعہ انسان کے سامنے آتا ہے اور اس کا دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ انسان اگر جنگل میں بھی خدا تعالیٰ کے لئے ڈیرہ لگا دے تو خدا تعالیٰ اُسے کبھی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے خود اپنے پاس سے سامان مہیا کرتا اور اُسے معجزات اور نشانات سے حصہ دیتا ہے پھر وہاں جتنے مقام شعائر کا درجہ رکھتے ہیں ان کے بھی ایسے نام رکھ دیئے گئے ہیں کہ جن سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیداہوتی ہے مثلاً سب سے پہلے لوگ منیٰ میں جاتے ہیں یہ لفظ اُمْنِیَّۃ سے نکلا ہے جس کے معنے آرزو اور مقصد کے ہیں اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوگ اس جگہ محض