تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 267

درجات عطا کئے جائیںگے اور منیٰ وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہ ؑ گھبرائی ہوئی پہنچی تھیں مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں خدا کے حکم سے تمہیں یہاںچھوڑ کر جا رہا ہوں تو انہوں نے کہا کہ اِذًا لَّا یُضَیِّعُنَا (بخاری کتاب الانبیاء باب یزفون النسلان فی المشی ) اگر یہ بات ہے تو اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا اور وہ واپس چلی گئیں۔گویا شیطان ہمیشہ کے لئے مار دیا گیا۔اس لئے یہاں شیطان کو کنکر مارے جاتے ہیں۔پھر حج بیت اللہ کی ایک غرض شعائر اللہ کا احترام اور ان کی عظمت لوگوں کے دلوں میں قائم کرنا ہے۔شعائر اللہ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ہیں۔چونکہ دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا ذہن صرف ظاہر سے باطن کی طرف منتقل ہوا کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ میں ان کے سامنے ایسے نشانات رکھ دیئے جو خدا تعالیٰ کو یاد دلانے والے اور اس کی محبت دلوں میں تازہ کرنے والے ہیں۔حج دراصل اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کر تا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہاجرہ ؑ او راسمٰعیل ؑ کو بیت اللہ کے قریب ایک وادی غیر ذی زرع میں انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں چھوڑ کر سرانجام دی تھی بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ وہ اپنے بچے حضرت اسمٰعیلؑ کی گردن پر چھُری پھیرنے کےلئے تیار ہو گئے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی یاد گار حج کی صورت میں قائم کر دی۔حالانکہ اگر یہ درست ہوتا تو چونکہ یہ واقعہ شام میں ہوا تھااس لئے حج کا اصل مقام شام ہوتا نہ کہ حجاز اور لوگ وہاں جمع ہو کر خدا تعالیٰ کی یاد کرتے اور کہتے ابراہیم ؑنے کس قدر قربانی کی تھی! لیکن خدا تعالیٰ نےحج کےلئے مکہ مکرمہ کو چُنا اور منیٰ اور مزدلفہ اور عرفات میں جانا اور وہاں مناسک حج بجا لانا ضروری قرار دیا۔پس میرے نزدیک حج کا تعلق آپ کا چُھری پھیرنے کےلئے تیار ہو جانےوالے واقعہ سے نہیں بلکہ اس واقعہ سے ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ ؑ اور اسمٰعیل ؑ کو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک ایسی وادی میں لا کر پھینک دیا جہاں پانی کا ایک قطرہ تک نہ تھا اور کھانے کے لئے ایک دانہ تک نہ تھا جب انسان حج کے لئے جاتا ہے تو اس کی آنکھوں کے سامنے یہ نقشہ آجاتا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنے والے بچائے جاتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ غیر معمولی عزت دیتا ہے اور حج کرنے والے کے دل میں بھی خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی اور اس کی ذات پر یقین ترقی کرتا ہے پھر وہ اپنے آپ کو اس گھر میں دیکھ کر جو ابتدائے دنیا سے خدا تعالیٰ کی یاد کے لئے بنایا گیا ہے ایک عجیب روحانی تعلق ان لوگوں سے محسوس کرتا ہے جو ہزاروں سال پہلے سے اس روحانی سلک میں پروئے چلے آتے ہیں جس میں یہ شخص پرویا ہوا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کی محبت کا رشتہ جو سب کو باندھے ہوئے ہے خواہ وہ پرانے ہوں یا نئے اسی طرح بیت اللہ کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا نقشہ