تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 266
تاریخیں مقرر کر دی گئیں۔تاکہ ان تاریخوں میں وہاں ساری دنیا کے لوگ جمع ہو سکیں۔گویا دوسرے الفاظ میں تمام دنیا کو اکٹھا کرنے اور جہان بھر کے اتقیاء او ر صلحاء کو جمع کرنے اور عالم اسلامی میں عالم گیر اخوت اور اتحاد پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے مائدہ روحانی پر لوگوں کو ایک عظیم الشان دعوت دی ہے تاکہ قومی اور ملکی منافرت درمیان سے اُٹھ جائے اورباہمی تعلقات وسیع ہو جائیں۔اور ایک دوسرے کی محبت ترقی کرے۔اور یہ خیال کہ ہم فلاں قوم سے ہیں اور ہمار اغیر فلاں قوم سے ہے مٹ جائے۔میرے نزدیک منیٰ میں لوگوں کے تین دن اسی لئے فارغ رکھے گئے ہیں کہ وہاں لوگ ذکر الہٰی اور عبادت میں اپنا وقت گذارنے کے علاوہ آپس میں ایک دوسرے سے ملیں اور حالات معلوم کریں۔قادیان اور ربوہ میں بھی لوگ مختلف اوقات میں آتے رہتے ہیں۔مگر وہ تعلقات نہیں بڑھتے جو جلسہ سالانہ کے ایام میں بڑھتے ہیں۔اگر حج سے یہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جائے تو میرے نزدیک وہ تفرقے اور شقاق مٹ سکتے ہیں۔جنہوں نے مسلمانوں کو کمزور کر رکھا ہے اور ان کے درمیان اختلافِ عقائد کے باوجود زبردست اتحاد پیدا ہو سکتا ہے غرض حج گو ایک مذہبی عبادت ہے مگر اس میں روحانی فوائد کے علاوہ یہ ملی اور سیاسی غرض بھی ہے کہ مسلمانوں کے ذی اثر طبقہ میں سے ایک بڑی جماعت سال میں ایک جگہ جمع ہو کر تمام عالم کے مسلمانوں کی حالت سے واقف ہوتی رہے۔اور ان میں اخوت اور محبت ترقی کرتی رہے اور انہیں ایک دوسرے کی مشکلات سے آگاہ ہونے اور آپس میں تعاون کرنے اور ایک دوسرے کی خوبیوں کو اخذ کرنے کا موقعہ ملتا رہے۔گو افسوس ہے کہ اس غرض سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حج سے یہی غرض تھی تو پھر مکہ مکرمہ میں ہی تمام مسلمانوں کا اجتماع کافی تھا عرفات منیٰ اور مزدلفہ میں جانے کی کیا غرض ہے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ عرفات منیٰ اور مزدلفہ میں جمع کرنے کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ شہر میں اجتماع کی صورت نہیں ہوسکتی اور نہ لوگوں کا آپس میں صحیح رنگ میں میل جول ہو سکتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دےدیا تاکہ وہاں لوگ آسانی سے ایک دوسرے سے مل سکیں چونکہ جگہ بھی کھلی ہوتی ہے او ر وقت بھی فارغ ہوتا ہے اس لئے ایک دوسرے کو ملنے کا مدّعا خوب اچھی طرح پورا ہو سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے مزدلفہ منیٰ اور عرفات کو اس شرف کے لئے اس لئے چُنا ہے کہ عرفات ساحل سمندر کی طرف ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی راستہ سے حضرت ہاجرہؓ اوراسمٰعیل ؑ کو چھوڑنے کے لئے شام سے تشریف لائے تھے۔اور عرفات وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی ان پر تجلی ظاہرہوئی۔اور مزدلفہ وہ مقام ہے جہاں آپ سے یہ وعدہ کیا گیاکہ اس قربانی کے بدلہ میں تجھے بہت بلند