تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 265
کہ اگر عصر کا وقت آجائے تو نہیں جا سکتا۔اس سے پہلے جا سکتا ہے۔گویا اس سے تیسرے دن کی رمی معاف ہو گئی۔پھر بعض نے کہا ہے کہ جس نے تعجیل کی نیت کی اسے چاہیے کہ وہ یوم النحر کو رمی کرے(بحر محیط زیر آیت ھذا)۔پھر فرماتا ہے وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقٰى۔اور جو شخص پیچھے رہ جائے یعنی تیسرے دن رمی کر کے جائے۔اسے بھی کوئی گنا ہ نہیں اور یہ وعدہ اس شخص کےلئے ہے جو تقویٰ اختیار کرے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ لِمَنِ اتَّقٰى کا تعلق تعجیل کے ساتھ ہے مگر میرے نزدیک اس کا تعلق نہ تعجیل کے ساتھ ہے نہ تاخیر کے ساتھ بلکہ لَا اِثْمَ عَلَیْہِ کے ساتھ ہے ورنہ جو گناہ گار ہے وہ تو گناہ گار ہی ہے اس کے متعلق لَا اِثْمَ عَلَیْہِ کہنا تو درست ہی نہیں ہو سکتا۔یہ نفیِ اِثْم صرف ایسے شخص کے لئے ہے جو متقی ہو۔یعنی اگر وہ کسی اور طرح گنہگار نہیں تو اس تعجیل یا تاخیر سے گنہگار نہیں ہوتا۔آخر میں وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ ان مناسک کی اصل غرض یہ ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔تمہارا بیت اللہ کا طواف کرنا۔حجراسود کو بوسہ دینا۔صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا۔مزدلفہ منیٰ عرفات اور مشعرا لحرام میں اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنا۔اور رمی الجمار کرنا۔یہ سب اس غرض کے لئے ہے کہ تمہارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی سچی محبت پیدا ہو اور تم سمجھو کہ ایک دن تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حضور اکٹھے ہونے والے ہو۔پس اگر تم نے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھا اور اس کی راہ میں ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کیا اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیمؑ اور اسمٰعیل ؑ اور ہاجرہ ؑ کو برکت دی تھی۔اُسی طرح وہ تمہیں بھی برکت عطا فرمائے گا اور تمہاری نسلوں کو بھی اپنی دائمی حفاظت اور پناہ میں لے گا۔پس تقویٰ کو اپنا شعار بنائو اور اس دن کو یاد رکھو جب تم سب کو اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے خدا تعالیٰ کےحضور حاضر ہونا پڑےگا۔حج کے احکام تو ختم ہو گئے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان جگہوں میں جانے اور وہاں چکر لگانے کی کیا حکمتیں ہیں؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ میرے نزدیک اس کی ظاہری حکمتوں میں سے ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ َ(آل عمران :۹۷) کہ سب سے پہلا گھر جو تمام دنیا کے فائدہ کے لئے بنایا گیا تھا وہ ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہیں بنایا بلکہ یہ آدم کے زمانہ سے چلا آتا ہے (خواہ وہ کوئی آدم ہو) پس وُضِعَ لِلنَّاسِ میں پیشگوئی تھی کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے اسے ساری دُنیا کو اکٹھا کرنے کے لئے بنایا ہے اس لئے تمام لوگوں کو اس جگہ جمع کیا جائےگا چنانچہ اسی غرض کے لئے حج کی خاص