تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 23
مقصود تک پہنچنے کو کہتے ہیں پس ان الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو مل جائو گے۔پہلے تم میں سے خاوند اپنی بیوی سے بیوی اپنے خاوند سے۔بیٹا اپنے باپ سے اور باپ اپنے بیٹے سے جُدا تھا۔اب مکہ کی طرف نکلنے میں تمہارا یہ بھی فائدہ ہے کہ تم ان کو مل جائو گے۔اور وہ سارا جھگڑا جس کے باعث تم ایک دوسرے سے جُدا تھے دُور ہو جائے گا۔پس ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے جو کام کرنے سے پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ اس میں فائدہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے انعامات بیان فرمائے (۱)لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ(۲) وَلِاُ تِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ(۳) لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ پہلا انعام ذہنی ہے اس کے ذریعہ انسان کو دماغی طور پر اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔دوسرا انعام مادی ہے یعنی حکومت اور بادشاہت تم کو مل جائے گی۔تیسرا انعام دل کے اطمینان کے لئے ہے کہ جب تم رشتہ داروں کو مل جائو گے تو تم کو اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے گا۔غرض پہلا حکم اَور غرض سے ہے اور دوسرا اَور غرض سے۔پہلے تو جنگ کا ذکر تھا اور اس کی غرض یہ بتائی تھی کہ اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ یعنی خدا کا چونکہ وعدہ ہے اس لئے اپنے محبوب کے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے تمہیں کوشش کرنی چاہیے۔گویا ایک اعلیٰ غرض بتائی جو صرف کامل الایمان لوگوں کے سامنے ہوتی ہے مگر ساتھ ہی فرما دیا کہ جس طرح تمہارا اعلیٰ مقصد یہ ہو کہ ہمیں انعامات سے کیا تعلق ہے ہم نے تو اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنی ہے اور اس کی مرضی کو پورا کرنا ہے۔اسی طرح میرا اعلیٰ تعلق بھی تو یہ ہے کہ میں تمہارے اعمال سے غافل نہ رہوں اور کسی عمل کو ضائع نہ جانے دوں یعنی جب تم کوشش کرو گے تو میری غیرت بھی جوش میں آئے گی اور میں اعلیٰ سے اعلیٰ برکات تم پر نازل کروں گا اس کے بعد دوسری دفعہ اس حکم کو اُن لوگوں کے لئے دُہرایا ہے جو ایمان کے لحاظ سے اس اعلیٰ مقام پر فائز نہیں تھے جس پر پہلا گروہ قائم تھا اور بتایا کہ فتح مکہ کے نتیجہ میں یہ تین فائدے تمہیں حاصل ہوں گے اوّل دشمن کا اعتراض جاتا رہے گا۔دوم فتح دنیوی حاصل ہو کر تمہیں امن میسر آجائے گا۔سوم تمہارے وہ عزیز اور رشتہ دار جواب بوجہ اختلاف مذہب تم سے جدا ہیں وہ تمہارے ساتھ آملیں گے۔گویا روحانی مادی اور قلبی تینوں قسم کے آرام تمہیں نصیب ہوجائیںگے۔پس چونکہ اس جگہ پہلی غرض کی نسبت ادنیٰ فوائد مذکور تھے اور پہلی جماعت کی نسبت ایک کمزور جماعت کو شامل کرنا مقصود تھا اس لئے اس کو الگ بیان کیا۔اور چونکہ یہی فوائد پہلی جماعت کو بھی ملنے والے تھے اس لئے اس کو بھی ساتھ شامل کر دیا۔پس یہ تکرار نہیں بلکہ دوسری آیت میں ان کمزوروں کا ذکر کیا گیا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظل نہ تھے اور پہلے حکم میں شامل نہ ہو سکتے تھے او رپھر ان کے لئے وہ فوائد بیان کئے جو ان کے شایانِ شان تھے اور ساتھ ہی پہلوں کو بھی شامل کر لیا کیونکہ ان کو بھی وہ چیزیں ملنے والی تھیں۔اگر انہیں شامل نہ کیا جاتا تو یہ سوال