تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 22
اللہ تعالیٰ سے مانگنا پسند کرتے ہیں مگر عمل کے بدلہ میں انعام طلب نہیں کرتے۔میں نے کئی دفعہ ایک بزرگ کا واقعہ سنایا ہے جو متواتر بیس سال ایک ہی دعا کرتے رہے اور ان کی دعا قبول نہ ہوئی اس عرصہ میں ان کا ایک مرید بھی آگیا۔وہ بزرگ رات کو اُٹھ کر دُعا مانگ رہے تھے کہ انہیں الہام ہوا کہ تمہاری یہ دعا قبول نہیں ہو گی۔یہ الہام ان کے مرید نے بھی سن لیا مگر وہ شرم کے مارے چپ رہا اور اس نے زبان سے کچھ نہ کہا دوسری رات پھر اس بزرگ نے دعا کی تو پھر الہام ہوا کہ تمہاری یہ دُعا قبول نہیں ہو گی اور ساتھ ہی مرید کو بھی اس کا پتہ لگ گیا۔مگر وہ پھر بھی شرم کے مارے چپ رہا تیسری رات پھر وہ بزرگ مصلّے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ الہام ہوا تمہاری یہ دعا قبول نہیں ہو گی۔اور مرید نے بھی یہ آواز سن لی۔وہ خاموش نہ رہ سکا اور اس نے کہا کہ ایک دفعہ دعا قبول نہ ہو یا دو فعہ قبول نہ ہو تو کوئی بات نہیں مگر آپ کو تو کئی بار کہا گیا کہ یہ دُعا قبول نہیں ہو سکتی مگر پھر بھی آپ مانگتے چلے جاتے ہیں۔اُس بزرگ نے کہا کہ تم تو ابھی سے تھک گئے ہو میں تو یہ دعا بیس سال سے متواتر کر رہا ہوں اور بیس سال سے ہی مجھے یہ جواب مل رہا ہے۔لیکن پھر بھی میں مانگتا چلا جاتاہوں لیکن تم تین دن سے ہی یہ آواز سن کر کہتے ہو کہ بس کرو۔میرا کام اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کام ماننا اور قبول کرنا ہے میں اپنا کام کر تا جائوں گا اللہ تعالیٰ اپنا کرے گا۔وہ مانے یا نہ مانے اس کا اپنا اختیار ہے۔پس اعلیٰ درجہ کے لوگ گھبراتے نہیں وہ اعمال بجا لاتے ہیں مگر اس کے بدلے میں انعام کے طالب نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کے لئے اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ کہنا ہی کافی تھا۔یعنی تمہارے رب کی یہ خواہش ہے کہ تم ایسا کرو۔لیکن دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اعلیٰ ایمان والے نہیں یہ لوگ چونکہ کام کرنے سے پہلے یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمیں کیا ملے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھی اس کا ذکر کر دیا کہ فتح مکہ کے نتیجہ میں ان پر کیا کیا انعامات نازل ہوں گے چنانچہ فرمایا۔لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ۔یہ حکم تمہیں اس لئے دیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ مل جائے۔یعنی اگر تم مکہ فتح کرنے کے لئے نکلو گے تو سب سے پہلا انعام تم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ہو گا کہ آئندہ تم پر لوگ اعتراض نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی تمہارے خلاف کوئی دلیل قائم کر سکیں گے۔دوسرا انعام جو ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے بیان کیا گیا ہے وہ وَلِاُ تِمَّ نِعْمَتِیْ ہے۔یعنی اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں حکومت اور بادشاہت عطافرمادےگا۔اس کا بیان کرنا صرف ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے ہی ہے۔ورنہ اعلیٰ درجہ کے لوگ ان باتوں کی پروا نہیں کرتے کہ ان کو کچھ ملے گا بھی یا نہیں۔تیسرا انعام لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ کے الفاظ میں بیان فرمایا کہ اس کی غرض یہ ہے کہ تم ہدایت پائو۔ہدایت دراصل