تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 24

پیدا ہوسکتا تھا کہ جب یہ انعامات ادنیٰ درجہ کے لوگوں کو ملیں گے تو کیا اعلیٰ درجہ کے لوگ ان انعامات سے محروم رہیں گے؟ اس شبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ٹکڑہ میں ان کامل الایمان لوگوں کا ذکر کر دیا اور بتادیا کہ گو وہ انعامات کے لالچ میں کوئی کام نہیں کرتے مگر جہاں تک ان فوائد کا تعلق ہے جو فتح مکہ سے وابستہ ہیں وہ ان سے محروم نہیں رہیں گے بلکہ جس طرح دوسرے لوگ فائدہ اٹھائیں گےاسی طرح وہ بھی فائدہ اُٹھائیں گے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ حَیْثُ مَاخَرَجْتُمْ نہیں بلکہ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں بعض کمزوراور معذور لوگ بھی تھے جن کی جسمانی کمزوریاں اُن کے نکلنے میں مانع تھیں جیسے لنگڑے یا اپاہج وغیرہ پس ان کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حَیْثُ مَاخَرَجْتُمْ کی بجائے حَیْثُ مَا کُنْتُمْ کے الفاظ استعمال فرما کر یہ ظاہر کیا کہ اس ثواب میں صرف وہی لوگ شریک نہیں ہوں گے جو خروج کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ وہ بیمار جو چارپائیوں سے ہل نہیں سکتے۔وہ اپاہج جو چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ بیمار اور کمزور جو اپنی بیماری اور کمزوری جسم کی وجہ سے لڑائی کے ناقابل ہیں اگر وہ فتح مکہ کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور ان کے دل اس حسرت سے پُر ہیں کہ کاش اُن میں طاقت ہوتی اور وہ بھی جنگ میں شریک ہو سکتے تو اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا اور ان کو بھی ویسا ہی ثواب دیا جائے گا جیسے عملی طور پر جنگ میں حصہ لینے والوں کو دیا جاتاہے غرض کمزور اور معذور لوگوں کو جو صدمہ ہوتا ہے کہ ہم اس ثواب سے محروم رہے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس صدمہ کو دور کرنے کے لئے وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْکے الفاظ استعمال فرما دئے تاکہ ان کو تسلی ہو جائے کہ ہم بھی اس میں شامل ہیں۔ایک اپاہج اور کمزور آدمی جنگ میں شامل نہیں ہو سکتا۔اگر وہ رات دن دُعائیں کر سکتا ہے کہ یا اللہ! مسلمانوں کو فتح دے اور انہیں مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل فرما یا اگر اس کے پاس کوئی غیر مسلم آجاتا ہے اوروہ اُسے تبلیغ کر کے مسلمان بنا لیتا ہے تو وہ بھی ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے عملی طور پر جنگ میں شامل ہونے والا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حَیْثُ مَا خَرَ جْتُمْ نہیں بلکہ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فرمایا ہے اور یا پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کو بھی شامل کر لیاہے جب جنگ نہ ہو۔اور ہدایت دی ہے کہ جب جنگ کو نکلو تب بھی اور جب گھروں میں ہوتب بھی مکہ کی فتح کو اپنی آنکھوں سے کبھی اوجھل نہ ہونے دو۔اسی طرح ان الفاظ میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ تم جہاں کہیں ہو تمہارا منہ ہمیشہ مکہ ہی کی طرف رہنا چاہیے۔یعنی تمہیں ہمیشہ اپنے مرکز کی ترقی اور وہاں کے رہنے والوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کی طرف توجہ رکھنی چاہیے اور یہ امر مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ اگر مکہ مکرمہ میں کوئی خرابی پیدا ہوئی تو اس کا سارے عالم اسلام پر اثر پڑے گا اور اگر مکہ کی ترقی ہوئی تو اس کا اثر بھی تمام عالمِ اسلام پر