تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 21

بلکہ آپؐ میں ہی شامل ہوتے ہیں۔اس لئے ان کا ذکر آپؐ سے علیحدہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔یہ لوگ ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے متعلق یہ علم تھا کہ ان کے لئے اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَکہہ دینا ہی کافی محرک ہوسکتا ہے چنانچہ اگر غور سے کام لیا جائے تو دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ دکھائی دیتے ہیں ایک تو وہ جو اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو ادنیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔اعلیٰ درجہ کے انسانوں کے لئے باریک باتیں ہی کافی محرک ہو جاتی ہیں لیکن ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے قریب کا محرک کام کرتا ہے مثلاً اعلیٰ درجہ کے لوگ جب نماز پڑھتے ہیں تو و ہ اس بات کو اپنے دل کے کسی گوشہ میں بھی نہیں لاتے کہ ان کو نماز کے بدلہ میں کیا ملے گا۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری نماز خدا تعالیٰ کے احسانات کے شکریہ کے طور پر ہے کسی جزا کے لئے نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر پہلے ہی کیا کم احسانات ہیں کہ ہم نماز پڑھ کر اس سے بدلہ کی خواہش رکھیں۔وہ لوگ اسی کو بہت بڑا احسان اور اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے احسانات کا شکریہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے لیکن اس کے مقابل پر ادنیٰ درجہ کے لوگ اگر چند دن بھی نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کے بعد ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جھٹ کہنے لگ جاتے ہیں کہ نمازوں میں کیا رکھا ہے ہم نے تو نمازیں پڑھ پڑھ کر دیکھ لیا ہے کہ ان میں کچھ بھی نہیں۔ایسے لوگ سودے کے طور پر نمازیں پڑھتے ہیں یہ لوگ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ ان کی پیدائش سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کی ماں کے دل میں محبت رکھی۔وہ اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پیدائش کے ساتھ ہی ان کی ماں کی چھاتیوں سے دودھ کے چشمے جاری کر دیئے تھے اور وہ اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پیدائش کے ساتھ ہی ان کے باپ کے دل میں رافت پیدا کر دی تھی اور اسے روزی کمانے کی توفیق دی وہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دینی و دنیوی ترقی کے لئے انہیں ناک کان آنکھیں دل اور دماغ وغیرہ عطا فرمائے ہیں۔وہ اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی زندگی کے قیام کے لئے سورج چاند ستارے آگ ہوا پانی زمین اور غذائیں وغیرہ پیدا کی ہیں۔وہ اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ سب انعامات کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں ملے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے نتیجہ میں ملے ہیں غرض ایک طرف تو بعض لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے اور دوسری طرف ایسے انسان بھی ہیں جو اپنے دل میں بدلے کا خیال تک نہیں لاتے۔وہ سوالی بن کر اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت کے مطابق مانگ تو لیتے ہیں مگر اپنے عمل کے بدلہ میں انعام کے طالب نہیں ہوتے۔یہ لوگ نماز روزہ زکوٰۃ حج اور غریب پروری کے بدلے میں اللہ تعالیٰ سے انعام کے طالب نہیں ہوتے بلکہ اسی کو وہ لوگ انعام سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکریہ ادا کرنے کا موقعہ اور توفیق عطا فرمائی۔یہ لوگ کنگال ہو کر بھی اپنے عمل کے بدلہ میں کسی انعام کے طالب نہیں ہوتے وہ