تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 20
’’بیٹھ جائو‘‘ پھر تھوڑی دیر کے بعد کہتے ہیں ’’بیٹھ جائو‘‘ پھر کچھ وقفہ کے بعد کہتے ہیں ’’بیٹھ جائو‘‘ اب بظاہر ان الفاظ میں تکرار نظر آتا ہے لیکن جب ہم پہلی مرتبہ یہ الفاظ کہتے ہیں تو ہمارے مخاطب وہ تمام لوگ ہوتے ہیں جو اس وقت کھڑے ہوتے ہیں۔لیکن جب دوبارہ یہی الفاظ کہتے ہیں تو وہ لوگ مراد ہوتے ہیں جو ابھی تک نہیں بیٹھے ہوتے۔اور جب ہم تیسری دفعہ کہتے ہیں تو وہ پانچ دس لوگ مخاطب ہوتے ہیں جو ابھی تک کھڑے ہوتے ہیں۔اب یہاں ایک جملے کا کئی دفعہ بولنا غیرفصیح نہیں اور نہ ہی اسے تکرار کہاجاتا ہے بلکہ ہر فقرہ اپنی ذات میں الگ الگ غرض کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح اس آیت میں بھی تکرار نہیں کیونکہ یہاں خدا تعالیٰ کا دوسری دفعہ وہی فقرہ لانا اپنے اندر ایک نئی حکمت رکھتا ہے۔چنانچہ پہلی آیت میں تو صرف یہ بتایا تھا کہ تمہاری لڑائیوں کا نقطہ مرکزی مکہ کی فتح ہونا چاہیے اور دوسری آیت میں فتح مکہ اور تحویل قبلہ کے بارہ میں دونوں حکموں کو جمع کر کے ان کی وجہ بتائی ہے اور وہ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌہے۔اورحجت سوائے اس کے کہ کوئی قرینہ ہو ایسی دلیل کو کہتے ہیں جو غالب کر دینے والی ہو۔پس یہ تکرار نہیں بلکہ فقرہ مکمل ہی نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ یہ دونوں باتیں دہرائی نہ جائیں۔یعنی مکہ فتح نہ ہوا تب بھی تم پر لوگوں کی حجت ہو گی اور اگر ادھر منہ نہ کیا تب بھی حجت ہو گی۔پس اس کا خیال رکھنا ضروری ہے اگر تم نے مکہ فتح نہ کیا تو تمہاری ترقی کے راستہ میں کئی قسم کی روکیں پیدا ہو جائیںگی۔اور اسلام پر دشمنوں کے اعتراضات کا دروازہ کھلا رہےگا۔غرض دونوں آیات الگ الگ مقاصد رکھتی ہیں اور دوسری جگہ اس مضمون کو جسے پہلی آیت میں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا تھا وسیع کردیا گیا ہے۔اور ان فوائد کو واضح کیا گیا ہے جو فتح مکہ اور تحویل ِ قبلہ کے ساتھ وابستہ تھے۔اسی طرح دوسری آیت میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا فرض ہے کہ تم خانہ کعبہ کی حفاظت کرو۔اور اُسے دشمنوں کے حملوں سے بچائو۔یہ مضمون پہلی آیت میں نہیں تھا پس گو اس آیت میں بھی فتح مکہ کا ہی ذکر ہے مگر پھر بھی اسے تکرار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں نئے اسلوب اور نئے انداز سے فتح مکہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے فوائد بیان کئے گئے ہیں۔پھر ایک اور نقطۂ نگاہ بھی تکرار کے اعتراض کو باطل ثابت کرتا ہے اور وہ یہ کہ پہلی آیت اُن اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے ہے جو اخلاقی اور روحانی لحاظ سے دوسرے لوگوں سے بہت بڑھے ہوئے اوراپنے اندر خاص فوقیت رکھتے ہیں یا بالفاظ دیگروہ آیت ایسے لوگوں کے لئے ہے جو اخلاق اور رُوحانیت کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں مدغم ہیں۔اور کامل طور پر آپ کے ظل کہلا سکتے ہیں۔ایسے وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا نہیں