تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 19

اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ یہ بات تمہارے رب کی طرف سے ہو کر رہنے والی ہے۔اور وہ اس کام میں تمہارا حامی اور مددگار ہو گا۔اسی طرح رَبِّکَکہہ کر اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر کام کے کچھ محرک ہوا کرتے ہیں اور بہترین محرک کسی کام کا یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس بات کا احساس ہو کہ میرا محسن مجھ سے یہ خواہش رکھتا ہے۔ایسی حالت میں وہ بسا اوقات اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے۔تمہیں بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ تمہارا رب جو تمہارا محسن ہے اُس کی یہ خواہش ہے کہ تم مکہ کو فتح کرو۔پس گویہ بات ایک دن پوری ہو کررہے گی مگر محسن کے احسان کا بدلہ اتارنا بھی تمہارا کام ہے اس لئے تمہیں اس کے متعلق اپنے سرد ھڑ کی بازی لگا دینی چاہیے اور اس عظیم الشان مقصد کے حصول کے لئے کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ تمہیں سزا دےگا بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قربانیوں کو دیکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اسلام اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتاجب تک مکہ فتح نہ ہو جائے اس لئے تم اپنی کوشش اور جدوجہد کو جاری رکھو اور فتح مکہ کو کبھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دو۔خدا تعالیٰ تمہارے اعمال کو ضائع نہیں ہونے دےگا۔اس میں مسلمانوں کو قربانیوں کے لئے اُبھارا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری قربانیوں کو دیکھتا ہے مگر تمہارے انعام اس وقت تک کمال کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم مکہ فتح نہ کر لو۔سو کوشش کرو کہ مکہ جلد فتح ہو جائے۔اس میں جتنی دیر ہو گی اتنی ہی تمہاری ترقی پیچھے پڑ جائے گی۔وَ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ۔یورپین مستشرق کہتے ہیں کہ اس جگہ قرآنی آیات میں تکرارپایا جاتاہے۔جو فصاحت کے خلاف ہے۔(Introduction to the Quran , Richard Bell)۔جب اس سے پہلے غیر مبہم الفاظ میں یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ تواس کے معاً بعد پھر انہی الفاظ کا کیوں تکرار کیا گیاہے؟ اس اعتراض کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ مخالفینِ اسلام کی اتنی بات تو درست ہے کہ ان دونوں آیات کے معنوں میں کوئی فرق نہیں لیکن یہ بات درست نہیں کہ ان دونوںکو ایک ہی غرض کے ماتحت بیان کیا گیا ہے بلکہ ان دونوں کے بیان کرنے کی اغراض مختلف ہیں۔اگر دونوں جگہ ایک ہی غرض کام کر رہی ہوتی تو پھر تو بے شک تکرار کا اعتراض درست ہوتا لیکن جب کسی نئی غرض کے لئے پہلے کلام کو دہرایا جائے تو وہ حُسنِ کلام کے منافی نہیں ہوتا۔صرف وہ تکرار قابلِ اعتراض ہوتا ہے جو بغیر غرض اور فائدہ کے ہو لیکن اگر ایک حکم کو بیان کیا جائے اور پھر اس کے دُہرانے کی کوئی نئی غرض پیدا ہو جائے تو اُسے تکرار نہیں کہا جاتا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ہم بعض دفعہ مجلس میں کہتے ہیں