تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 221

وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ میں بتایا کہ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کا مال کھانا ناجائز ہے۔اسی طرح تم حکام کو بھی روپیہ کا لالچ نہ دو تاکہ اس ذریعہ سے تم دوسرے کا مال کھا سکو۔اس آیت میں افسران بالا کو رشوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے اور اُسے حرام اور ناجائز قرار دیا گیاہے۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اپنے مالوں کو حکّام کے پاس نہ لے جائو تاکہ لوگوں کے مال کا ایک حصہ تم گناہ کے ذریعہ کھا جائو۔یعنی ان کے متعلق جھوٹے مقدمات دائر نہ کرو اور یہ نہ سمجھو کہ اگر حاکم انصاف کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے تمہیں کسی کا حق دلادے گا تو وہ تمہارے لئے جائز ہو جائےگا کیونکہ دنیوی عدالتوں سے بالا ایک آسمانی عدالت بھی ہے اور جب اس نے اپنے قانون میں ایک چیز کو ناجائز قرار دے دیا ہے تو دنیا کی کوئی عدالت خواہ اُسے جائز بھی قرار دے دے وہ بہر حال ناجائز اور حرام ہی رہے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ بِحَقِّ اَخِیْہِ شَیْئًا فَلَا یَاْ خُذُہٗ۔فَاِنَّمَا اَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ۔(بخاری کتاب الاحکام باب موعظۃ الامام للخصوم) یعنی اگر میں کسی شخص کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا غلط فیصلہ کر دوں تو اُسے چاہیے کہ وہ اس کے لینے سے انکار کر دے کیونکہ میں اس کے لئے آگ کے ایک ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں۔اسی طرح بخاری اور مسلم میں اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت آتی ہے کہ اَنَّہٗ سَمِعَ خُصُوْمَۃً بِبَابِ حُجْرَتِہٖ فَخَرَجَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَ اِنَّہٗ یَاْ تِیْنِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ اَنْ یَّکُوْنَ اَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَاَحْسِبُ اَنَّہٗ صَادِقٌ فَاَقْضِیَ لَہٗ بِذٰلِکَ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَاِنَّمَا ھِیَ قِطْعَۃٌ مِّنَ النَّارِ فَلْیَاْ خُذْ ھَااَوْلِیَتْرُکْھَا۔(بخاری کتاب الاحکام باب من قضی لہ بحقّ اخیہ فلا یاخذہ۔۔۔) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے مکان کے دروازہ پر کسی جھگڑے کی آواز سنی آپ شور سُن کر باہر تشریف لے آئے اور لوگوں سے فرمایا کہ دیکھو میں بھی ایک انسان ہوں۔میرے پاس مقدمات والے آتے ہیں تو ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو۔اور میں اس کی باتوں کی وجہ سے خیال کرلوں کہ وہی سچا ہے اور میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔پس اگر میں کوئی ایسا فیصلہ کر دوں تو جس شخص کےلئے میں کسی مسلمان کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کروں اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں نے اُسے دیا ہے اور اسے اختیار ہے کہ وہ چاہے تو اس آگ کے ٹکڑا پر قبضہ کر لے اور چاہے تو اُسے چھوڑ دے۔