تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 222

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَ تجھ سے چاندوں کے بارہ میں سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ یہ لوگوں (کے عام کاموں) اور حج کے لئے وقت الْحَجِّ١ؕ وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ معلوم کرنے کا آلہ ہیں اور اعلیٰ نیکی یہ نہیں ہےکہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑے سے داخل ہو بلکہ کامل نیک وہ شخص لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا ہے جو تقویٰ اختیار کرے۔اور (تم) گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۰۰۱۹۰ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔حل لغات۔اَ لْاَ ھِلَّۃُ ھَلَالٌ کی جمع ہے۔وَقِیْلَ یُسَمّٰی ھِلَا لًا لِلَیْلَتَیْنِ اَوْ اِلٰی ثَلَاثٍ اَوْ اِلٰی سَبْعٍ۔اور ہلال دوراتوں کے چاند کو کہتے ہیں۔اسی طرح تین اور سات راتوں کے چاند کو بھی ہلال کہا گیا ہے۔(اقرب الموارد) مَوَاقِیْتُ مِیْقَاتٌ کی جمع ہے اور اَلْمِیْقَاتُ کے معنے ہیں۔اَلْوَقْتُ وقت۔وَقِیْلَ اَلْوَقْتُ الْمَضْرُوْبُ لِلشَّیْءِ۔اور کہا گیا ہے کہ میقات سے مراد وہ خاص وقت بھی ہے جو کسی کام کے لئے مقرر کیا جائے۔وَالْمَوْعِدُ الَّذِیْ جُعِلَ لَہٗ وَقْتٌ۔اور میقات اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس کے لئے کوئی وقت مقرر کیا گیا ہو۔وَقَدْ یُسْتَعَارُ لِلْمَوْضِعِ الَّذِیْ جُعِلَ وَقْتًا لِلشَّیْءِ۔اور وہ خاص جگہ جہاں کوئی خاص کام وقت مقررہ پر کیا جائے اُسے بھی میقات کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔صحابہ کرامؓ نے جب دیکھاکہ کس طرح رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ ان کے قریب آجاتا اور ان کی دُعائوں کو قبول فرماتا ہے تو ان کے دلوں میں شوق پیدا ہوا کہ وہ باقی مہینوں کے بارہ میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سوال کریں تاکہ وہ ان کی برکات سے بھی مستفیض ہو سکیں۔چنانچہ فرماتا ہےکہ لوگ تجھ سے چاندوں کے بارہ میں سوال کرتے ہیں تو انہیں کہہ دے کہهِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ یہ لوگوں کے لئے وقت کا اندازہ