تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 220

كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ۔اس میںآیات سے مراد احکام الٰہیہ ہیں اور فرماتا ہے کہ ان احکام کی اصل غرض تمہارےاندر تقویٰ پیدا کرنا ہے۔پس تمہیں چاہیے کہ تم ہمیشہ تقوی اللہ کو ملحوظ رکھو اور نہ صرف اللہ کی حدود کو نہ توڑو بلکہ شبہات سے بھی پرے رہنے کی کوشش کرومبادا تمہارا قدم پھسل جائے اور تم تقویٰ سے دور چلے جاؤ۔وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى اور تم اپنے (بھائیوںکے ) مال آپس میں (مل کر) جھوٹ (اور فریب) کے ذریعہ سے مت کھاؤ۔اور نہ ان الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ (اموال)کو (اس غرض سے ) حکّام کی طرف کھینچ لے جاؤتا تم لوگوں کےمالوں کا کوئی حصہ جانتے بوجھتے ہوئے وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَؒ۰۰۱۸۹ ناجائز طورپر ہضم کر جاؤ۔حلّ لُغات۔تَاْکُلُوْا اَکَلَ کے معنے کھانے کے ہوتے ہیں۔لیکن جب غذا کے سوا اور چیزوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے ہلاک کرنے یا فنا کر دینے کے ہوتے ہیں۔تُدْلُوْا اَدْلٰی سے جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اَدْلٰی اِدْلَاءً کے معنے ہیں اَرْسَلَ الدَّلْوَ فِی الْبِئْرِ، اس نے کوئیں میں ڈول ڈالا اور اَدْلٰی فُلَا نٌ فِی فُلَانٍ کے معنے ہیں۔قَالَ قَبِیْحًا اس نے کسی کے متعلق بُری بات کہی اور اَدْلٰی بِـحُجَّتِہٖ کے معنے ہیں اس نے اپنی دلیل پیش کی اور اَدْلٰی اِلَیْہِ بِمَالٍ کے معنے ہیں۔اس نے اُسے مال دیا۔(اقرب) تُدْلُوْا بِھَا اصل میں لَا تُدْلُوْ ابِھَا کے معنوں میں ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ (۱) ایک دوسرے کے مال حکّام کے پاس نہ لے جائو۔یعنی جھوٹے مقدمات بنا کر اُن کے مال نہ لو (۲) حاکموں کو بطور رشوت مال نہ دو۔تفسیر۔اپنے مال کو تو انسان کھایا ہی کرتا ہے پس لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ سے مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ مت کھائو۔انسان دوسرے کا مال کئی طرح کھاتا ہے۔اوّل۔جھوٹ بول کر۔دوم۔ناجائز ذرائع سے چھین کر۔سوم۔سود کے ذریعہ سے۔چہارم رشوت لے کر یہ سب امور باطل میں داخل ہیں۔