تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 219

یہاں تک کہ جب گہری تاریکی چھا جائے تب افطاری کرتے ہیں۔یہ طریق شریعت کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ نے اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ کا حکم دیا ہے اور لیل کا وقت سورج ڈوبنے سے لےکر سورج نکلنے تک ہے۔یہ مراد نہیں کہ جب تک اچھی طرح تاریکی نہ چھا جائے اس وقت تک تم روزہ افطار ہی نہ کرو۔وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ۠ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ۔اس کے متعلق اختلاف ہوا ہے کہ آیا اعتکاف کی وجہ سے مباشرت ممنوع قرار دی گئی ہے یا مسجد کی حرمت کی وجہ سے (تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ھذا)۔میرے نزدیک اعتکاف کی وجہ سے مباشرت سے نہیں روکا گیا بلکہ مسجد کے احترام کی وجہ سے روکا گیا ہے۔جس کی طرف ۠ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِکے الفاظ اشارہ کر رہے ہیںکہ مباشرت کی نفی اعتکاف کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ مساجد کی وجہ سے ہے۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مباشرت لَمَس کو بھی کہتے ہیں اور احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایسی حالت میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوتے تھے آپ کا سر بھی پانی سے دھودیتی تھیںاور بالوں کی کنگھی بھی کر دیا کرتی تھیں (بخاری ابواب الاعتکاف باب لا یدخل البیت الا لحاجۃ )۔پس اس جگہ مباشرت کی نہی سے محض مخصوص تعلقات یا اُس کے مبادی مراد ہیں جسم کو چھونا مراد نہیں۔تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا۔فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں۔تم اُن کے قریب بھی مت جاؤ تاکہ غلطی سے تمہارا قدم اللہ تعالیٰ کے محارم میں نہ جا پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دفعہ صحابہؓکو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو! حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور بھی ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس جو شخص ان مشتبہ امور سے بچا اُس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچانے کےلئے بڑی احتیاط سے کام لیا۔لیکن جو شخص ان مشتبہ امور میں جا پڑا وہ اس چروا ہے کی مانند ہے جو رکھ کے آس پاس اپنا ریوڑ چرارہا ہے۔اور قریب ہے کہ اُس کا ریوڑ رکھ کے اندر چلا جائے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ۔کان کھول کر سنو! کہ ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین میں اس کی رکھ اُس کی حرام کردہ چیزیں ہیں (بخاری کتاب الایمان باب فضل من اِسْتَبْرَأَ لدینہٖ) پس محارم اللہ تعالیٰ کی رکھ ہوتے ہیں اور اگر کوئی انسان اُن کے قریب جائے تو اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ اُس کا قدم ڈگمگا جائے اور وہ ناجائز امور کا مرتکب ہو کر خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موردبن جائے۔پس اصل تقویٰ یہی ہے کہ انسان حدود اللہ کے قریب جانے سے بھی بچے تاکہ شیطان اُس کے قدم کو ڈگمگانہ دے۔