تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 213
كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ کی حق تلفی کرتے تھے اس لئےاس نے تم پر فضل سے توجہ کی اور تمہاری (اس حالت کی)اصلاح کر دی۔فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ سو اب تم (بلا تأمل) ان کے پاس جاؤاور جو کچھ اللہ (تعالیٰ) نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے اس کی جستجو کرو۔اور کھاؤ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ اور پیؤ۔یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ١ۚ وَ لَا اس کے بعد(صبح سے) رات تک روزوں کی تکمیل کرو۔اور جب تُبَاشِرُوْهُنَّ۠ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِي الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ تم مساجد میں معتکف ہو تو ان کے (یعنی عورتوں کے) پاس نہ جاؤ۔یہ اللہ کی (مقررکردہ) حد یں ہیں حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ اس لئے تم ان کے قریب (بھی )مت جاؤ۔اللہ (تعالیٰ) اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے نشانات بیان کرتا ہے لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ۰۰۱۸۸ تاکہ وہ (ہلاکتوںسے) بچیں۔حلّ لُغات۔رَفَثٌ اَلرَّفَثُ کَلَامٌ مُتَضَمِّنٌ لِمَا یُسْتَقْبَحُ ذِکْرُ ہٗ مِنْ ذِکْرِ الْجَمَاعِ وَدَ وَاعِیْہِ وَجُعِلَ کَنَا یَۃً عَنِ الْجَمَاعِ۔یعنی رَفَثَ کا لفظ جماع اور اس کے محرکات کے لئے کنایۃً استعمال ہوتا ہے۔(مفردات) لِبَاسٌ لَّکُمْ لِبَاسٌکے معنے اصل میں سِتْرٌ کے ہیںیعنی ڈھانپنے والی چیز۔مگر قرآن کریم نے اس کے اور