تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 212

واقف ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ وقت رمضان کا مہینہ ہے۔یہ آیت خدا تعالیٰ نے روزوں کے ساتھ بیان کی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اس کا روزوں سے بہت گہرا تعلق ہے اور اس کے روزوں کے ساتھ بیان کرنے کی وجہ یہی ہے کہ جس طرح مظلوم کی ساری توجہ محدود ہو کر ایک ہی طرف یعنی خدا تعالیٰ کی طرف لگ جاتی ہے اسی طرح ماہِ رمضان میں مسلمانوں کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف ہو جاتی ہے۔اور قاعدہ ہے کہ جب کوئی پھیلی ہوئی چیز محدود ہو جائے تو اس کا زور بہت بڑھ جاتا ہے جیسے دریا کا پاٹ جہاں تنگ ہوتا ہے وہاں پانی کا بڑا زور ہوتا ہے اسی طرح رمضان کے مہینہ میں وہ اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جو دعا کی قبولیت کا باعث بن جاتے ہیں۔اس مہینہ میں مسلمانوں میں ایک بہت بڑی جماعت ایسی ہوتی ہے جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی ہے۔پھر سحری کے لئے سب کو اُٹھنا پڑتا ہے اور اس طرح ہر ایک کو کچھ نہ کچھ عبادت کا موقعہ مل جاتا ہے۔اس وقت لاکھوں انسانوں کی دُعائیں جب خدا تعالیٰ کے حضور پہنچتی ہیں تو خدا تعالیٰ ان کو رد نہیں کرتا۔بلکہ انہیں قبول فرماتا ہے۔اس وقت مومنوں کی جماعت ایک کرب کی حالت میں ہوتی ہے پھر کس طرح ممکن ہے کہ ان کی دُعا قبول نہ ہو؟ درد اور کرب کی حالت کی دعا ضرور سنی جاتی ہے جیسے یوُنسؑ کی قوم کی حالت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے ان کو بخش دیا اور ان سے عذاب ٹل گیا اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ سب اکٹھے ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور جھک گئے تھے۔(یونس:۱۹) پس رمضان کا مہینہ دُعائوں کی قبولیت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے یہی وہ مہینہ ہے جس میں دُعا کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قَرِیْبٌ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔اگر وہ قریب ہونے پر بھی نہ مل سکے تو اور کب مل سکے گا؟ جب بندہ اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیتا ہے اور اپنے عمل سے ثابت کر دیتا ہے کہ اب وہ خدا تعالیٰ کا درچھوڑ کر اور کہیں نہیں جائےگا تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے اس پر کھل جاتے ہیں اور اِنِّیْ قَرِیْبٌ کی آواز خود اس کے کانوں میں بھی آنے لگتی ہے جس کے معنے سوائے اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے ؟اور جب کوئی بندہ اس مقام تک پہنچ جائے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے خدا کو پالیا۔اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ١ؕ هُنَّ تمہیں روزہ رکھنے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ہے۔وہ تمہارے لئے ایک (قسم کا) لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ لباس ہیں اور تم ان کے لئے (ایک قسم کا) لباس ہو۔اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں