تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 214

معنے بھی بتائے ہیں۔چنانچہ سورہ اعراف میں لباس کے دو کام بتائے گئے ہیں فرماتا ہے يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا(الاعراف: ۲۷) یعنی اے بنی آدم! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے ننگ کو ڈھانکتا اور تمہیں زینت بخشتا ہے۔لباس کا تیسرا کام ایک اور جگہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ(النحل :۸۲) اس نے تمہارے لئے گرمی سردی کے ضرر سے بچانے کے لئے سرابیل بنائے ہیں۔پس لباس کا تیسرا کام گرمی سردی کے ضر ر سے بچانا ہے۔تَخْتَانُوْنَ خَانَ یَخُوْنُ سے باب افتعال ہے۔اور جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔اور اِخْتَانَہٗ اِخْتِیَانًا کے معنے ہیں اُؤْ تُمِنَ فَلَمْ یَنْصَحْ وَخَانَ الْعَھْدَ نَقَضَہٗ۔یعنی اِخْتَانَ کے معنے ہیں امانت کا حق ادا نہ کیا اور عہد کو توڑا۔(اقرب) عَفَا عَنْکُمْ عَفَا عَنْہُ وَلَہٗ ذَنْبَہٗ وَعَنْ ذَنْبِہٖ صَفَحَ عَنْہُ وَتَرَکَ عُقُوْبَتَہٗ وَ ھُوَ یَسْتَحِقُّھَا وَ اَعْرَضَ عَنْ مُؤَا خَذَ تِہٖ۔یعنی عَفَا کے معنے ہیں (۱) اس کا قصور معاف کر دیا اور اس سے مواخذہ نہ کیا۔(۲) اور عَفَااللّٰہُ عَنْ فُلَانٍ کے معنے ہیں مَحَا ذُنُوْبَہٗ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ مٹا دیئے۔(اقرب) (۳) وَقَدْ یُسْتَعْمَلُ عَفَا اللّٰہُ عَنْکُمْ فِیْمَـا لَمْ یَسْبَقْ بِہٖ ذَنْبٌ وَلَا یُتَصَوَّرُ۔عَفَا کا لفظ بعض دفعہ ایسے آدمی کے لئے بھی بولا جاتا ہے جس نے نہ کوئی گناہ کیا ہو اور نہ اس کے متعلق گناہ کا خیال ہو سکتا ہو۔(اقرب) بَاشِرُوْ ھُنَّ باب مفاعلہ سے امر کا صیغہ ہے اور بَاشَرَ الْاَمْرَ کے معنے ہیں تَوَلَّاہُ بِنَفْسِہٖ اس نے خود کوئی کام کیا۔وَبَاشَرَہُ النَّعِیْمُ اَفَاضَ عَلَیْہِ حَتّٰی کَاَنَّہٗ مَسَّ بَشْرَ تَہٗ اور بَاشَرَ ہُ النَّعِیْمُ کے معنے ہیں اُسے اس کثرت سے نعمتیں حاصل ہوئیں کہ اس کے چمڑے کو چھونے لگیں۔(اقرب) اور اَلْمُبَاشَرَۃُ کے معنے ہیں اَلْاِفْضَاءُ بِالْبَشْرَ تَیْنِ ہم صحبت ہونا۔(مفردات) کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ کَتَبَ لَہٗ میں عام طور پر لام فائدہ کے لئے آتا ہے اور کتابت کے معنے مقدر کردینے اور فرض کر دینے کے ہیں۔اس جگہ مقدر کر دینے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔مِنْ کے معنے اس جگہ امتیاز کے ہیں۔عَاکِفُونَ عَاکِفٌ عَکَفَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور عَاکِفُوْنَ جمع کا صیغہ ہے۔اور عَکَفَ کے معنے ہیں اَلْاِقْبَالُ عَلَی الشَّیْءِ وَ مُلَا زَمَتَہٗ عَلٰی سَبِیْلِ التَّعْظِیْمِ لَہٗ۔یعنی کسی چیزکی طرف پوری طرح متوجہ ہونا۔اور اس کے ساتھ اس کی تعظیم کی خاطر تعلق قائم رکھنا یا اس میں رہنا(مفردات)۔پس عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِ