تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 209
میں سے ایک نے کہا جو ایک پائو تل کھالے ا س کو میں پانچ روپے انعام دوںگا۔پاس سے ایک زمیندار گذر رہا تھا اس نے جب سُنا کہ پائو تل کھانے پر شرط لگی ہوئی ہے تو اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اس نے خیال کیا کہ بھلا ایک پائو تل کھانا کون سی بڑی بات ہے جس پر انعام دیا جائے۔ضرور اس کے ساتھ کوئی اور شرط ہو گی۔وہ آگے بڑھا اور پوچھا شاہ جی ! ’’تل سلیاں سمیت کھانے نے کہ بغیر سلیاں دے۔‘‘ یعنی پھلیوں سمیت تلِ کھانے ہیں یا الگ کئے ہوئے بیج کھانے ہیں۔اس زمیندار کے نزدیک تو پائو تلِ کھاناکوئی چیز نہ تھی لیکن وہ سب بنئے تھے جو آدھا پھلکا کھانے کے عادی تھے۔جب اس نے یہ کہا کہ شاہ جی کیا تل پھلیوں سمیت کھانے ہیں تو اس بنئے نے کہا چوہدری صاحب! آپ جائیے ہم تو آدمیوں کی باتیں کرتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جہاں یہ کہتا ہے کہ میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں وہاں بھی وہ آدمیوں کا ہی ذکر کرتا ہے۔جانوروں کا ذکر نہیں کرتا۔وہ ہر پکارنے والے کی پکار کو نہیں سنتا۔وہ صرف اس شخص کی پکار کو سنتا ہے جسے یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ پر ہی سب ذمہ داری نہیں بلکہ مجھ پر بھی کچھ ذمہ داری ہے۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ اے خدا! فلاں کی لڑکی مجھے اُدھال کر لا دے یا فلاں کا مال مجھے دے دے یا میرے فلاں شخص کی جان نکال دے تو خدا تعالیٰ اپنے آپ کو ان دُعائوں کا مخاطب نہیں سمجھتا پس فرمایا فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ میں ہر اس دعا کو سنتا ہوں جس کا کرنے والا پورے طور پر میرے احکام پر عمل کرے اور پھر اُسے مجھ پر پورا یقین بھی ہو اور جو ایسا کرتے ہیں وہ غلط دُعائیں مانگتے ہی نہیں کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ ایسی دُعائیں مانگتے تھے کہ اے خدا! فلاں کا مال ظالمانہ طور پر ہمیں دےدے؟ پس خدا تعالیٰ بھی یہاں انسانوں کا ذکر کرتا ہے حیوانوں کا نہیں اور فرماتا ہے کہ میں دُعائیں سنتا ہوں لیکن اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔اوّل دُعا کرنے والا پورے طور پر میرے احکام پر عمل کرے۔دوم۔اسے مجھ پر یقین بھی ہو۔جب اسے مجھ پر یقین ہو گا تو اس کا اعتماد بھی دعا کی قبولیت کے لئے اکسا ئے گا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ سب سے زیادہ کس کے لئے دُعائیں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میںسب سے زیادہ اس شخص کے لئے دعا کرتا ہوں جو مجھے آکر کہے کہ میرے لئے کوئی دعا کرنے والا نہیں آپ میرے لئے دعا کریں۔جب وہ مجھ پر اعتماد کرتا ہے حالانکہ وہ میرا واقف بھی نہیں ہوتا تو میں اس پر اعتماد کیوں نہ کروں۔پس فرمایا وَلْیُوْ مِنُوْابِیْ جو مجھ پر یقین رکھتا ہے اور میرے منشا کے مطابق دُعا کرتا ہے میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔لیکن جسے یقین نہ ہو اور وہ میرے منشاء کے مطابق دعا نہ کرتا ہو تو اس کی دعا قبول نہیں ہوسکتی۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے کہ لَا یَزَالُ یُسْتَجَابُ