تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 208

اسی طرح ایک دفعہ ایک چور نے بیان کیا کہ میں جب سیندھ لگانے لگتا ہوں تو دو رکعت نماز پڑھ لیتاہوں تاکہ چوری سے پہلے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کر لوں اور مجھے اس کام میں کامیابی حاصل ہو۔اخبارات میں عموماً اشتہارات چھپتے رہتے ہیں کہ ایسے تعویذہیں جن کو پاس رکھنے سے تم جس عورت کو چاہو بلا سکتے ہو۔اس تعویذ کے اثر سے وہ عورت خود بخود تمہارے پاس آجائےگی۔اور پھر کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ ہے اسے خدا تعالیٰ کا کلام آتا ہے۔اس نے یہ تعویذ تیار کئے ہیں۔یہ دین کے ساتھ تمسخر ہے۔خدا تعالیٰ بدکاریوں میں کبھی شریک نہیں ہوتا۔کہنے والے بیشک ایسا کہتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہےفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ۔اگر میں نے کہا ہے کہ میں پکارنے والے کی پکار کو سُنتا ہوں تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ میں ہر ایک پکار کو سن لیتا ہوں جس پکار کو میں سُنتا ہوں اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔اول میں اس کی پکار کو سنتا ہوں جو میری بھی سنے (۲) میں اس کی پکار سنتا ہوں جسے مجھ پر یقین ہو مجھ پر بدظنّی نہ ہو۔اگر دعا کرنے والے کو میری طاقتوں اور قوتوں پر یقین ہی نہیں تو میں اس کی پکار کو کیوں سنوں؟ پس قبولیت دعا کے لئے دو شرطیں ہیں جس دعا میں یہ دو شرطیں پائی جائیں گی وہی قبول ہو گی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں اَلدَّاعِ فرمایا ہے جس کے معنے ہیں ایک خاص دعا کرنے والا۔اور اس کے آگے وہ شرائط بتا دیں۔جو اَلدَّاعِ میں پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ میری سُنے اور مجھ پر یقین رکھے۔یعنی وہ دُعا میرے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہو۔جائز ہو ناجائز نہ ہو۔اخلاق کے مطابق ہو۔سنت کے مطابق ہو۔اگر کوئی شخص ایسی دعائیں کرے گا تو میں بھی اس کی دعائوں کو سنوں گا۔لیکن اگر کوئی کہے کہ اے اللہ! میرا فلاں عزیز مر گیا ہے تو اُسے زندہ کر دے تو یہ دعا قرآن کے خلاف ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف ہے۔جب اس نے قرآن کی ہی نہیں مانی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نہیں مانی تو خدا اس کی بات کیوں مان لے؟ پس فَلْیَسْتَجِیْبُوالِیْ وَلْیُوْ مِنُوْ ا بِیْ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تمہیں چاہیے کہ تم میری باتیں مانو اور مجھ پر یقین رکھو اگر تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے تو میں تمہاری دُعا کیسے سُن سکتا ہوں؟ پس قبولیت دُعا کے لئے دو شرطیں ہیں۔اولفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ تم میری باتیں مانو(۲) وَلْیُوْ مِنُوْ ابِیْ اور مجھ پر یقین رکھو۔جو لوگ ان شرائط کو پورا نہیں کرتے وہ دین دار نہیں۔وہ میرے احکام پر نہیں چلتے اس لئے میں بھی یہ وعدہ نہیں کرتا کہ میں ان کی ہر دُعا سُنوں گا۔بیشک میں ان کی دُعائوں کو بھی سنتا ہوں مگر اس قانون کے ماتحت ان کی ہر دعا کو نہیں سنتا۔لیکن جو شخص اس قانون پر چلتا ہے اور پھر دعائیں بھی کرتا ہے میں اس کی ہر دعا کو سنتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ بازار میں چند بنیئے بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ کیا کوئی ایک پائو تلِ کھا سکتا ہے؟ وہ ایک پائو تل کھانا بہت بڑا کام سمجھتے تھے ان