تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 210

لِلْعَبْدِ مَالَمْ یَدْعُ بِاِثْمٍ اَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ مَالَمْ یَسْتَعْجِلْ۔قِیْلَ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا الْاِ سْتِعْجَالُ؟ قَالَ یَقُوْلُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَ رَ یَسْتَجِیْبُ لِیْ فَیَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَالِکَ وَیَدْعُ الدُّعَاءَ (مسلم کتاب الذکر و الدعاء باب بیان انہ یستجاب للداعی ما لم یعجل۔۔۔)یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعائوں کو قبول کرتا ہے جب تک کہ وہ قطع رحم اور گناہ کے متعلق نہ ہوں۔مگر اس صورت میں نہیں کہ وہ جلدی کرے۔صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ! جلدی سے کیا مرا دہے۔آپ نے فرمایا وہ یہ کہنے لگتا ہے کہ میں نے بڑی دُعا کی مگر میں دیکھتا ہوں کہ میری دُعا قبول نہیں ہوئی۔پھر وہ دُعا سے تھک جاتا ہے اور دُعا چھوڑ بیٹھتا ہے۔غرض دُعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور یقین رکھے اور مایوسی اس کے قریب بھی نہ پھٹکے۔پھر فرماتا ہےلَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ۔اس کے نتیجہ میں یقیناً وہ کامیاب ہوںگے۔رشد کے معنے ہوتے ہیں رستہ دکھائی دینا۔پس لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَکے معنے یہ ہیں کہ انہیں وہ رستہ مل جائےگا جو انہیں کامیابی تک پہنچا دےگا۔(اقرب) لَعَلَّ کے معنے عام طور پر شاید کے ہوتے ہیں لیکن اس جگہ اس کے معنے شاید کے نہیں۔یہاں یہ لفظ کلام الملوک کے طور پر استعمال ہوا ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہمارا شاید بھی یقینی ہوتا ہے۔چنانچہ بالعموم حکام کہہ دیتےہیں کہ اگر تم درخواست کرو تو حکومت غور کرے گی۔لفظ شک کے ہوتے ہیں۔لیکن دراصل وعدہ ہوتا ہے کہ ہم ضرور ایسا کر دیں گے۔لغت والے بھی لکھتے ہیں کہ جب لَعَلَّ کا لفظ خدا تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس وقت اس کے معنے یقین کے ہوتے ہیں۔(مفردات راغب) پس لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ کے یہ معنے ہیں کہ ابھی تک تو مجھے ان تک آنا پڑتا ہے مگر جب وہ یہ مقام حاصل کر لیں گے تو پھر ان کے اندر یہ طاقت پیدا ہو جائےگی کہ وہ خود مجھ تک آسکیں گے۔چنانچہ پہلے اِنِّیْ قَرِیْبٌ کہہ کر بتایا تھا کہ میں ان کے پاس آتا ہوں مگر یَرْشُدُوْنَ کہہ کر بتایا کہ بندہ میں ترقی کرتے کرتے ایک قسم کی الوہیت کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے پہلے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے نابینا آدمی کے پاس اس کا دوست بیٹھا رہے۔مگر پھر یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے جیسےبینا کے سامنے اس کا محبوب بیٹھا ہو۔یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عبادت کرتے وقت ہر انسان کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔یا کم سے کم وہ یہ سمجھے کہ خدا مجھ کو دیکھ رہا ہے(بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبی عن الایمان۔۔۔)۔اب خدا تعالیٰ کے دیکھنے کے یہی معنے ہیں کہ وہ اس کے قریب ہو جاتا ہے ورنہ دیکھ تو وہ عرش سے بھی رہا ہے درحقیقت اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندہ کے اس قدر قریب آجاتا ہے کہ انسان یہ یقین کرنے لگ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے بلکہ اس سے ترقی کر کے وہ اس مقام کو بھی حاصل کر