تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 207
دے اور کہے کہ کوئی ہے؟ تو وہاں خدا موجود ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے بندے نے اگرچہ مبہم طور پر آواز دی ہے کہ شاید کوئی موجود ہو تو وہ بول پڑے لیکن میں اس کی مبہم پکار کو بھی اپنی طرف منسوب کر لیتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وہ مجھے ہی بُلا رہا ہے۔میں بھول جاتا ہوں کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے خیالی طور پر کہہ رہا ہے۔میں اس وقت اگر مگر کو چھوڑ دیتا ہوں اور فوراً اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑتا ہوں۔اس لئے اگر کوئی میرے متعلق سوال کرے تو اُسے بتا دو کہ میں قریب ہی ہوں، دور نہیں۔بے شک دنیا میں بعض دفعہ کوئی دوسرا شخص قریب بھی ہوتا ہے تو پھر بھی وہ مدد کرنے کا ارادہ نہیں کرتا۔یا اس کی مدد کی طاقت نہیں رکھتا لیکن میں تو یہ ارادہ کر کے بیٹھا ہوں کہ اس کی مدد کروں گا۔اور پھر میرے اندر اس کی مدد کرنے کی طاقت بھی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ صرف مسلمانوں ہی کی دعائیں نہیں سنتا بلکہ خواہ کوئی ہندو ہو یا عیسائی، سکھ ہو یا آریہ اگر وہ خدا تعالیٰ کے حضور سچے دل سے گڑ گڑائے اور اپنی حالت زار پیش کر کے اس کی مدد چاہے تو خدا تعالیٰ اس کی دُعا کو سنتا اور اسے قبول کرتا ہے۔بے شک وہ ایک سچے مسلمان کی دُعائیں دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ قبول کرتا ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اس نے اپنی رحمت کا دروازہ دنیا کی باقی قوموں اور افراد کے لئے بند کر رکھا ہے بلکہ ہر شخص جو اس کے دروازہ پر جاتا ہے اور اس کے حضور گر جاتا ہے خدا تعالیٰ اس پر رحم کرتا اور اس کی حاجات کو پورا فرماتا ہے وہ واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔جب کوئی پکارنے والا اپنی مدد کے لئے مجھے آواز دیتا ہے تو میں اس کی پکار کا ضرور جواب دیتا ہوں اور اسے اپنی بارگاہ سے کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں کرتا۔پھر فرماتا ہے فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ۔جب میں تمہاری باتیں سنتا ہوں اور تمہاری دُعائیں قبول کرتا ہوں تو تمہیں بھی ایسا بن جانا چاہیے کہ تمہاری دُعائیں قبول ہوں۔یہ مت خیال کرو کہ میں ہر ایک دُعا کو سنتا ہوں۔میرے احکام کے خلاف جو دُعائیں ہوںگی یا میرے مقرر کردہ فرائض کے خلاف ہوںگی یا اخلاقی نظام کے خلاف ہوںگی میں انہیں کیسے سن سکتا ہوں۔کیا میں انہیں قبول کر کے اپنے رسول کو ہلاک کردوں۔یا کیا میں انہیں قبول کر کے اخلاقی نظام کو توڑ ڈالوں؟ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری دُعائیںبھی سنی جائیں تو چاہیے کہ تمہاری دُعا میرے نظام کے خلاف نہ ہو۔تمہاری دُعا دین کے خلاف نہ ہو۔تمہاری دُعا اخلاقی نظام کے خلاف نہ ہو۔کہتے ہیں ایک عرب حج کے لئے گیا تو وہ خانہ کعبہ میں کھڑے ہو کہ ایک دُعا کر رہا تھا اور وہ ایسی گندی تھی کہ اُسے سن کر پولیس نے اس کو قید کر لیا۔وہ دُعا یہ کر رہا تھا کہ اے خدا! تو ایسا کر کہ میری محبوبہ کا خاوند اس سے نارا ض ہو جائے اور وہ مجھے مل جائے۔گویا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ بھی اس کی بدکاری میں شریک ہو جائے۔