تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 160

یعنی گناہوں کو چھوڑ دے خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے یہ تقویٰ ہے اور تو اُس طریق کو اختیار کر جو کانٹوں والی زمین پر چلنے والا اختیار کرتا ہے یعنی وہ کانٹوں سے خوب بچتا ہے اور تو چھوٹے گناہ کو حقیر نہ سمجھ کیونکہ پہاڑ کنکروں سے ہی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اے مومنو!تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزے رکھنے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح پہلی امتوں پر روزے رکھنے فرض کئے گئے تھے۔دنیا میں بعض تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو منفرد ہوتی ہیں۔اکیلے انسان پر آتی ہیں اور وہ ان سے گھبراتا ہے۔شکوہ کرتا ہے کہ میں ان تکالیف کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔لیکن بعض تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جن میں سارے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ان تکالیف پر جب کوئی انسان گھبراتا یا شکوہ کا اظہار کرتا ہے تو لوگ اُسے یہ کہہ کر تسلّی دیا کرتے ہیں کہ میاں یہ دن سب پر آتے ہیں اور کوئی شخص یہ امید نہیں کر سکتا کہ وہ ان تکلیفوں سے بچ جائے۔مثلاً موت ہے موت ہر انسان پر آتی ہے۔دنیا میں کوئی احمق سے احمق انسان بھی ایسا نہیں مل سکتا جو کہے کہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ مجھ پر موت نہ آئے۔موت اس پر ضرور آئے گی چاہے جلدی آجائے یا دیر میں۔پس كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ کہہ کر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ روزے ایسی نیکی ، ثواب اور قربانی ہیں جن میں سارے ہی ادیان شریک ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس حکم کو پورا کیا ہے۔پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ جس کے حصول کے لئے ساری قومیں کوشش کرتی رہی ہیں تم اس سے بچنے کی کوشش کرو! اگر یہ کوئی نیا حکم ہوتا اگر روزے صرف تم پرہی فرض ہوتے تو تم دوسرے لوگوں سے کہہ سکتے تھے کہ تم اسے کیا جانو! تم نے تو اس کا مزہ ہی نہیںچکھا۔لیکن وہ لوگ جو اس دروازہ میں سے گذر چکے ہیں۔اور جو اس بوجھ کو اٹھا چکے ہیں انہیں تم کیا جواب دو گے؟ لازماً مسلمانوں پر حجت اُنہی احکام میں ہوسکتی ہے جو پہلی قوموں کو بھی دیئے گئے اور انہوں نے ان احکام کو پورا کیا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے مسلمانو! تم ہوشیار ہو جائو ہم تم پر روزے فرض کرتے ہیں۔اور ساتھ ہی تمہیں بتا دیتے ہیں کہ روزے پہلی قوموں پر بھی فرض کئے گئے تھے۔اور انہوں نے اس حکم کو اپنی طاقت کے مطابق پورا کیا تھا اگر تم اس حکم کو پورا کرنے میں سستی دکھائو گے تو وہ قومیں تم پر اعتراض کریں گی اور کہیں گی کہ ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے روزوں کا حکم دیا تھا اور ہم نے اُسے پورا کیا اب تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں تو تم اس حکم کو صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے۔غرض مسلمانوں کی غیرت اور ہمت بڑھانے کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ روزے صرف تم پر ہی فرض نہیں کئے گئے بلکہ پہلی قوموں پر بھی فرض کئے گئے تھے۔اور ان قوموں نے اپنی طاقت