تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 159
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر (بھی )روزوں کا رکھنا (اسی طرح) فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۰۰۱۸۴ گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔تاکہ تم (روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے) بچو۔حلّ لُغات۔تَتَّقُوْنَ اِتَّقٰی سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔اور تَقْوٰی کے معنے ہیں جَعْلُ النَّفْسِ فِیْ وَ قَایَۃٍ مِـمَّا یُخَافُ۔۔۔وَفِیْ تَعَارُفِ الشَّرْعِ حِفْظُ النَّفْسِ عَمَّا یُؤْثِمُ(مفردات) یعنی اپنے نفس کو ایسی تمام چیزوں سے ایک ڈھال کے پیچھے محفوظ کر لیا جن سے خوف محسوس کیا جاتا ہے۔اور شرعی نقطہ نگاہ سے تقْوٰی سے مراد گناہوں سے بچنا ہے۔اِتَّقٰی وَقٰی سے بابِ اِفتعال کا فعل ماضی ہے وَقٰی کے معنے ہیں بچایا ، حفاظت کی۔اور اِ تَّقـٰی کے معنے ہیں۔بچا۔اپنی حفاظت کی (اقرب) مگر اس لفظ کا استعمال دینی کتب کے محاورہ میں معصیت اور بُری اشیاء سے بچنے کے ہیں اور خالی ڈر کے معنو ںمیں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔وَقَایَۃٌ کے معنی ڈھال یا اس ذریعہ کے ہیں جس سے انسان اپنے بچائو کا سامان کرتا ہے بعض نے کہا ہے کہ اتقاء جب اللہ تعالیٰ کے لئے آئے تو انہی معنوں میں آتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنی نجات کے لئے بطور ڈھال بنا لیا۔قرآن کریم میں تقویٰ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بارہ میں حضرت ابوہریرہؓ سے کسی نے پوچھا تو انہوںنے جواب دیا کہ کانٹوں والی جگہ پر سے گزرو تو کیا کرتے ہو ؟ اس نے کہا یا اس سے پہلو بچا کر چلا جاتا ہوں یا اس سے پیچھے رہ جاتا ہوں یا آگے نکل جاتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بس اسی کا نام تقویٰ ہے یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مقام پر کھڑا نہ ہو اور ہر طرح اس جگہ سے بچنے کی کوشش کرے ایک شاعر (اِبنُ المُعتز) نے ان معنوں کو لطیف اشعار میں نظم کر دیا ہے وہ کہتے ہیں۔خَلِّ الذُّنُوْبَ صَغِیْرَھَا وَکَبِیْرَھَا ذَاکَ التُّقٰی وَاصْنَعْ کَمَاشٍ فَـوْقَ اَرْ ضِ الشَّوْکِ یَحْذَرُ مَایَرَیٰ لَا تَحْقِرَنَّ صَغِیْرَۃً اِنَّ الْجِبَالَ مِنَ الْحَصٰی (ابن کثیر)