تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 161

کے مطابق اس حکم کو پورا کیا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روزوں کی شکل میں اختلاف تھا اور وہ اختلاف آج تک نظر آتا ہے۔کہیں اس قسم کے روزے ہوا کرتے تھے جنہیں وصال کہتے ہیں کہ درمیان میں سحری نہ کھانا۔اس قسم کے روزوں میں صرف شام کے وقت روزہ کشائی کی جاتی اور دوسری سحری نہ کھا کر متواتر آٹھ پہر روزہ رکھا جاتا۔کہیں ایسے روزے ہوتے کہ روزہ کشائی بھی نہ ہوتی اور تین تین چارچار پانچ پانچ دن متواتر روزہ رکھا جاتا۔ایسے روزے بھی پائے جاتے ہیں جن میں لوگوں کو ہلکی غذا کھانے کی اجازت دی گئی ہے مگر ٹھوس غذائوں سے منع کیا گیا ہے جیسے ہندوئوں یا عیسائیوں میں روزے ہوتے ہیں۔ہندوئوں کے روزوں کے متعلق تو عام طور پر مشہور ہے کہ ان کا روزہ یہ ہوتا ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز نہیں کھانی۔اس کے علاوہ اگر وہ کئی سیر آم ، کیلے، اورنارنگیاں وغیرہ کھا جائیں تو ان کے روزہ میں فرق نہیں آتا۔روٹی اور سالن کو چھوڑ کر باقی جو چیزچاہیں کھا لیں۔پھر اس سے بھی آسان روزے رومن کیتھولک عیسائیوں میں پائے جاتے ہیں۔آخر انہوں نے بھی کسی مذہبی روایت کی بنا پر ہی یہ روزے رکھنے شروع کئے ہوںگے یا کسی حواری سے کوئی بات پہنچی ہو گی۔اُن کا روزہ یہ ہوتا ہے کہ گوشت نہیں کھانا۔اگر وہ آلو اُبال کر یا کدو کا بھرتہ بنا کر اس کے ساتھ روٹی کھالیں تو ان کا روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ اگر گوشت کی بوٹی ان کے معدہ میں چلی جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Fasting )پس روزوں کے متعلق بھی مختلف اقوام میں اختلاف پائے جاتے ہیں۔اور اپنے اپنے زمانہ میں ان احکام میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں بھی پوشیدہ ہوںگی۔مثلاً جو قومیں کثرت سے گوشت کھانے والی ہوں وہ ان اخلاق سے رفتہ رفتہ محروم ہو جاتی ہیں جو سبزی کے استعمال کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی اخلاقی اصلاح کے لئے اور انہیں یہ بتانے کے لئے کہ سبزی بھی غذا میں ضروری ہوتی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے دیا ہو کہ ہفتہ میں کم از کم ایک دن تم پر ایسا آنا چاہیے جب تم گوشت نہ کھائو۔تو یہ نہایت پُر حکمت روزہ ہو جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں اسلام نے ہماری غذا کے متعلق یہ ایک عام حکم دے دیا ہے کہ گوشت بھی کھائو اور سبزیاں بھی کھائو۔آگ پر پکی ہوئی چیزیں بھی استعمال کرو اور جنہیں آگ نے نہ چُھؤا ہو وہ بھی استعمال کر لو۔غرض ہماری غذا میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی احتیاطیں جمع کر دی ہیں۔لیکن پہلی قوموں کے لئے ممکن ہے اس قسم کی احتیاطیں ناقابلِ برداشت پابندیاں ہوں اور ان کے اخلاق کی اصلاح کے لئے اس قسم کے روزے تجویز کئے گئے ہوں۔مثلاً وہ قومیں جو جنگی ہوتی ہیں اور جن کا شکار پر گذارہ