تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 97

لِلّٰهِ جَمِيْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ۰۰۱۶۶ (کسی طرح اب) دیکھ لیتے (تو جان لیتے )کہ سب قوت اللہ ہی کو ہےاور یہ کہ اللہ سخت عذاب (دینے ) والا ہے۔حلّ لُغات۔اَنْدَادًا۔یہ نِدٌّ کی جمع ہے اور اَلنِّدُّ کے معنے ہیں اَلْمِثْلُ وَلَایَکُوْنُ اِلَّا مُخَالِفًا۔نِدّ مثل کو کہتے ہیں۔اور یہ لفظ ہمیشہ مدّ مقابل کے لئے بولا جاتا ہے۔یُقَالُ مَالَہٗ نِدٌّ اَیْ مَالَہٗ نَظِیْرٌ کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی نِد نہیں یعنی اس کا کوئی نظیر نہیں۔اس کی جمع انداد آتی ہے۔(اقرب) یہاں اِذْ۔حِیْنَ کے معنے میں استعمال ہوا ہے اور حِیْن کے معنے وقت کے ہیں۔اسی طرح اس جگہ لَوْ کی جزاء محذوف ہے جو کہ یَعْلَمُوْا ہے۔معنے اس طرح ہوںگے کہ اگر یہ ظالم لوگ اس گھڑی کو جس میں اُن پر عذاب نازل ہو گا دیکھ لیں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ سب قوت اللہ ہی کے لئے ہے۔تفسیر قرآن کریم میں مشرکوں کے معبودوں کے لئے چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔(۱) نِدّ (۲) شریک (۳) اِلٰہ (۴)ربّ۔اور یہ چاروں نام چار قسم کے شرکوں پر دلالت کرتے ہیں۔نِدّ شریک فی الجوہر کو کہتے ہیں یعنی ایسی ہستی کو جس کی محض عبادت ہی مدِّنظر نہ ہو بلکہ جیسے خدا تعالیٰ کی ذات ہے ویسے ہی اس چیز کو ازروئے ذات سمجھا جائے اور شریک وہ ہے جسے کاموں میں شریک باری تعالیٰ قرار دیا جائے خواہ بعض صفات میں یا کل صفات میں۔خواہ اس کی عبادت کی جائے یا نہ کی جائے اور اِلٰہ یعنی معبود کا لفظ جب خدا تعالیٰ مشرکوں کی نسبت استعمال کرے تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔یہ لفظ بھی نِدسے وسیع ہے کیونکہ عام طور پر وہ بھی اِلٰہ قرار دیئے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے شریک فی الجوہر تسلیم نہیں کیے جاتے۔جیسے ہندوئوں وغیرہ کے دیوتا ہیں۔اور ربّ ان ہستیوں کو کہا جاتا ہے جن کی ہر ایک بات بلا تمیز خیر و شر مان لی جائے بغیر اس کے کہ لوگ ان کی عبادت کریں یا انہیں خدا تعالیٰ کی صفات میں شریک قرار دیں۔ان چاروں قسم کے شرکوں کی مثالیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں۔نِدّ قرار دینے والی وہ مسیحی اقوام ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا قرار دیتی ہیں وہ انہیں صفاتِ الوہیت کی وجہ سے خدا قرار نہیں دیتیں بلکہ اس وجہ سے خدا قرار دیتی ہیں کہ ان کے نزدیک وہ ازلی ابدی ہیں۔یعنی وہ انہیں شریک فی الجوہر ہونے کے لحاظ سے خدا مانتی ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ خدائی کی وہ تمام صفات جو ذات کے لحاظ سے خدا تعالیٰ میں موجود ہونی ضروری ہیں ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔یا جیسے پارسی لوگ دو الگ الگ خدائوں کے قائل ہیں۔یزدان کو وہ روشنی کا خدا سمجھتے ہیں اور اہرمن کو تاریکی کا خدا قرار دیتے ہیں(انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجین اینڈ