تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 96
تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ویسا ہی سات سالہ قحط نازل فرمائے جیسا کہ اس نے یوسفؑ کے زمانہ میں نازل کیا تھا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ کی اس بد دُعا کی وجہ سے حجاز میں ایسا شدید قحط پڑا کہ لوگوں کو مردار اور ہڈیاں اور چمڑے تک کھانے پڑے اور ان کی صحتیں اس قدر کمزور ہو گئیں کہ انہیں ہروقت آنکھوں کے سامنے دھواں سا نظر آتا تھا اور یہ عذاب پورے سات سال تک ممتد رہا۔آخر لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے درخواست کی کہ مضر یعنی قبائلِ حجاز کے لئے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی تکلیف کو دُور کرے۔چنانچہ آپؐ نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے بارشیں نازل فرمائیں اور قحط دُور ہوا بلکہ ایک روایت میں ذکر آتا ہے کہ خود ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تیری قوم ہلاک ہو گئی۔دعا کر کہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دُور کرے۔چنانچہ آپ نے دُعا فرمائی اور یہ عذاب دُور ہوا(بخاری کتاب تفسیر القرآن سورۃ دُخان باب ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون)۔یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہوائیں بھی مسخر کر دی تھیں اور بادل بھی مسخر کر دیئے تھے اور کامل مومنوں کے لئے بھی وہ ایسا ہی کیا کرتا ہے۔بے شک ہوائیں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں اور بارشیں ہمیشہ برستی رہتی ہیں مگر بدر اور احزاب کی ہوائوں نے بتا دیا کہ وہ مومنوں کے لئے بشارت اور کافروں کے لئے عذاب تھیں۔اسی طرح بارشیں بھی بے شک عام طور پر ہوتی رہتی ہیں مگر بدر اور مدینہ کی بارشوں نے بتا دیا کہ وہ مسخر شدہ تھیں اور مسخر شدہ بارشیں اور ہوائیں ہمیشہ مومنوں کی تائید اور کفار کی تذلیل کے لئے جاری ہوتی ہیں اور ایسے امور تقدیر خاص کے ماتحت جاری ہوتے ہیں۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر اللہ(میں)سے(اللہ کے) ہمسر بنا تے ہیں۔وہ ان سے اللہ کی محبت کی طرح يُّحِبُّوْنَهُمْ۠ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ محبت کرتے ہیں۔اور جو لوگ مومن ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ(ہی) سے محبت کرتے ہیں۔وَ لَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ اور جو لوگ (اس )ظلم کے مرتکب ہوئے (ہیں) اگر وہ (اس گھڑی کو ) جب وہ عذاب کو (سامنے) دیکھیں گے