تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 98
ایتھکس زیر لفظ Zoroastrianism)۔اس کے مقابلہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو بعض ہستیوں کو صرف شریک قرار دیتے ہیں یعنی بعض کاموں پر انہیں متصرف تو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کی پرستش نہیں کرتے۔گویا انہیں صرف شریک فی الصفات مانتے ہیں جیسا کہ عرب کے لوگ تھے وہ جنّات وغیرہ کو حکم اور تصرف میں تو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے تھے مگر انہیں معبود یا رب یا نِدّ خیال نہیں کرتے تھے صرف اُن کا یہ اعتقاد تھا کہ فلاں وادی میں جسے وہ سید الوادی قرار دیتے تھے جِنّ متصرف ہے اور وہ اس میں آتا جاتا ہے۔وہ اس کا ادب بھی کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کی طرح اس سے ڈرتے بھی تھے لیکن اس کی عبادت نہیں کرتے تھے۔(تفسیرقرطبی سورۃ الجن زیر آیت ۴ تا ۷) اِلٰہ یعنی معبود کا لفظ نِدّ سے وسیع ہے۔چنانچہ کئی لوگ ایسے ہیں جو بعض ہستیوں کو معبود تو سمجھتے ہیں اور اُن کی عبادت بھی کرتے ہیں مگر انہیں خدا تعالیٰ کا شریک فی الجوہر تسلیم نہیں کرتے۔جیسے ہندو اپنے دیوتائوں کی عبادت کرتے ہیں مگر اُن کو متصرف یا شریک فی الجوہر قرار نہیں دیتے۔اسی طرح ان میں ماں باپ کی عبادت بھی پائی جاتی ہے مگر ان کو شریک یا رب یا نِدّ نہیں سمجھا جاتا۔چوتھا نام ربّ ہے اور گو اس کے اصل معنے پیدا کرکے کمال تک پہنچانے والے کے ہیں۔مگر اصطلاح مذاہب میں ہر ایک مربی اور سردار کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اس سے ایسے لوگ مراد ہوتے ہیں جن کی ہر ایک بات بلاتمیز خیر و شر مان لی جائے۔جیسے گم گشتہ اقوام میں پیروں فقیروں کے متعلق اعتقادرکھا جاتا ہے۔اسلام اجتہادی مسائل میں دوسروں کی اطاعت جائز قرار دیتا ہے لیکن جس شخص کی خدا اور انبیاء کے حکم کے خلاف نصوص صریحہ میں اطاعت کی جائے وہ گویا ربّ سمجھا جاتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ (التوبۃ :۳۱) یعنی یہود نے اپنے احبار اور راہبوں کو خدا کے سوا اپنا ربّ بنا لیا ہے۔ان چاروں الفاظ میں سے اِلٰہ اور ربّ کے الفاظ تو خدا تعالیٰ کے لئے بھی استعمال کر لئے جاتے ہیں لیکن نِدّ اور شریک کے الفاظ صرف معبود انِ باطلہ کے لئے ہی استعمال ہوتے ہیں۔اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ جہاں نِدّ کا لفظ استعمال ہوگا وہاں شریک فی الجوہر مراد ہو گا۔(اگر جوہر میں مشابہت نہ ہو تو وہ چیز مثل کہلائےگی نِدّ نہیں) اور جس جگہ شریک کا لفظ استعمال ہو گا وہاں شریک فی الصفات مراد ہو گا خواہ اس کی عبادت کی جائے یا نہ کی جائے اور جہاں اِلٰہ یعنی معبود کا لفظ ہو گا وہاں صرف عبادت کو مدِّنظر رکھا جائےگا۔خواہ انہیں خدا کا شریک فی الجوہر تسلیم نہ کیا جائے۔اور جہاں ربّ کا لفظ استعمال ہو گا وہاں ایسی ہستیاں مراد ہوںگی جن کی ہر ایک بات خیر و شر کی تمیز کے بغیر مان لی جائے اور خدا اور اس کے رسول کے احکام کی پرواہ نہ کی جائے۔قرآن کریم میں ان سب اقسام کے شرک کا