تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 95

کر دیاکہ تھوڑی دیر میں ہی جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور کفار کے بڑے بڑے لیڈر خاک و خون میں تڑپنے لگے اور ان کے مسلّح اور آزمودہ کار سپاہی میدان سے منہ پھیر کر بھاگ نکلے۔(السیرة النبویة لابن ہشام ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبد المطلب رمی الرسول للمشرکین بالحصباء)۔پھر غزوۂ احزاب میں بھی ایسا ہی ہوا اور خدا تعالیٰ نے آپ کی تائید میں ہوا چلائی اور کفار بد حواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک رات سخت آندھی چلی جس نے قناطوں کے پردے توڑ دیئے۔چولھوں پر سے ہنڈیاں گرادیں اور بعض قبائل کی آگیں بُجھ گئیں۔مشرکین عرب میں یہ رواج تھا کہ وہ ساری رات آگ جلائے رکھتے تھے اور اس کو نیک شگون سمجھتے تھے اور جس کی آگ بُجھ جاتی تھی وہ خیال کرتا تھا کہ آج کا دن میرے لئے منحوس ہے اور وہ اپنا خیمہ اٹھا کر لڑائی کے میدان سے پیچھے ہٹ جاتا تھا جن قبائل کی آگ بجھی انہوں نے اس رواج کے مطابق اپنے خیمے اٹھائے اور پیچھے کو چل پڑے۔ان کو دیکھ کر ارد گرد کے قبائل نے سمجھا کہ شاید یہود نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر شبخون مار دیا ہے اور ہمارے آس پاس کے قبائل بھاگ رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے بھی جلدی جلدی اپنے ڈیرے سمیٹے اور میدان سے بھاگنا شروع کر دیا۔ابوسفیان اپنے خیمہ میں آرام سے لیٹا تھا کہ اس واقعہ کی خبر اُسے بھی جا پہنچی وہ گھبرا کر اپنے بندھے ہوئے اونٹ پر چڑھ بیٹھا اور اس کو ایڑیاں مارنی شروع کر دیں۔آخر کسی نے اُسے توجہ دلائی کہ وہ یہ کیا حماقت کر رہا ہے اس پر اس کے اونٹ کی رسیاں کھولی گئیں اور وہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت میدان سے بھاگ گیا (السیرة النبویۃ لابن ہشام، غزوةخندق)۔پھر ہوائوں کی طرح بارشیں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تائید میں برسیں اور بادلوں نے بھی آپ کا ساتھ دیا چنانچہ جنگِ بدر کے موقعہ پر جبکہ صحابہؓکو پانی کی سخت ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے بارش نازل کر دی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو پانی بھی مل گیا اور ان کی زمین بھی جو ریتلی تھی اور میدان جنگ بننے والی تھی سخت ہو گئی۔اُدھر کافروں کی زمین جو سخت تھی بارش کی وجہ سے ایسی خراب ہو گئی کہ وہ اُس پر پھسلنے لگ گئے(السیرة النبویۃ لابن ہشام ذکر رؤیا عاتکۃ بنت عبد المطلب)۔اسی طرح مدینہ میں آپ کی دُعا کی برکت سے ایک دفعہ کئی دن بارش ہوتی رہی لیکن جب وہ بارش تکلیف کی صورت اختیار کرنے لگی اور مومنوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو آپ ہی کی دُعا کی برکت سے وہ رُکی اور مدینہ سے ہٹ کر اردگرد کے علاقوں پر برسنے لگ گئی۔(بخاری کتاب الدعوات ، باب الدعاء غیر مستقبل القبلۃ)۔اسی طرح جب مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شدید مخالفت کی اور بار بار عذاب کا مطالبہ کیا