تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 94
مِنْهَا الْاَذَلَّ (المنافقون:۹) مدینے کا سب سے بڑا معزز آدمی یعنی عبداﷲ بن اُبَی ابن سلول مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نعوذ باﷲمن ذالک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔یہی وہ معنے تھے جو صحابہؓ نے لئے۔ہو سکتا ہےکہ اس کی مراد یہ ہو کہ معزز قوم یعنی انصار ذلیل قوم یعنی مہاجرین کو نکال دے گی۔مگر بات پھر بھی وہی آجاتی ہے۔صحابہ ؓ میںگو اس وقت اختلاف اور جوش پیدا تھا مگر عبداﷲ بن اُبیَ ابن سلول کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ اُن کے ہوش ٹھکانے آگئے۔انصار نے فوراً سمجھ لیا کہ ہمارے ایمان کی آزمائش کا وقت ہے انہوں نے جھگڑا وہیں ختم کر دیا اور مہاجرین کے لئے جگہ چھوڑ دی۔مہاجرین نے تو اس وجہ سے کوئی جوش نہ دکھایا کہ خود اُن کے ساتھ جھگڑا تھا مگر انصار میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ اِس فقرہ کے کہنے کے بعد عبداﷲ بن اُبَی ابن سلول زندہ رہنے کے قابل نہیں۔عبدا ﷲ بن اُبَی ابن سلول کے بیٹے کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے بھی اپنے دل میں یہی فیصلہ کیا کہ میرا باپ اب زندہ رہنے کے قابل نہیں۔اور وہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ آپؐ کو وہ بات پہنچی ہے جو میرے باپ نے کہا ہے۔آپؐ نے فرمایا ہاں پہنچی ہے اس کے بعد اُس نے کہا یا رسول اﷲ میرے باپ کے اس جرم کی سزا سوائے قتل کے اَور کیا ہو سکتی ہے مگر مَیں ایک عرض کرتا ہوں کہ جب آپؐ میرے باپ کے قتل کا حکم دیں تو میرے ہاتھ سے اُ س کو قتل کروائیں کیونکہ یا رسول اﷲ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کسی اَور شخص کے ہاتھ سے وہ قتل ہو اور میرا نفس کسی وقت مجھے یہ جوش دلائے کہ وہ سامنے میرے باپ کا قاتل جاتا ہے اُس سے بدلہ لے۔مَیں چاہتا ہوں کہ میرا باپ میرے ہی ہاتھ سے قتل ہو جائے تاکہ کسی مسلمان کا بُغض میرے دل میں پیدا نہ ہو ( السیرۃالنبویۃ لابن ہشام غزوۃ بنی المصطلق۔طلب ابن عبداللہ بن اُبَی ان یتولّی ھو قتل ابیہ) دیکھو صحابہ ؓ کی نظر کیسی باریک بین تھی۔عبداﷲ بن اُبَی ابن سلول کا بیٹا اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے اس لئے قتل نہیں کرنا چاہتا کہ اس نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی ہتک کی ہے۔وہ جانتا ہے کہ جُرم خواہ کتنا ہی بڑا ہو بہر حال وہ اس کا باپ ہے۔پس وہ اس جوش کی وجہ سے اسے اپنے ہاتھ سے قتل نہیں کرنا چاہتا کہ اُس نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی کیوں ہتک کی۔وہ اُسے اس وجہ سے اپنے ہاتھ سے قتل کرنا چاہتا ہے تاکہ کسی اور مسلمان بھائی کا بُغض اس کے دل میں پیدا نہ ہو۔گویا بنی اسرائیل کو جس حکمت کی طرف وحی جلی سے خدا تعالیٰ کو توجہ دلانی پڑی محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے صحابہؓ آپ ہی آپ اپنے نورِ ایمان کی وجہ سے وَحْیِ جَلِیْ کے بغیر وَحْیِ خَفِیْ کی مدد سے اس نکتہ تک جا پہنچے۔رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْاعَنْہُ۔ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْاس میں اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو مَیں اوپر بیان کر چکا ہوں۔