تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 95
یعنی اَئمۃ الکفر کو سزا ملنا تمہاری قوم کے لئے بہتر ہے کیونکہ تمہاری قوم کی قلبی حالت ایسی ہے کہ عفو اس کی اصلاح نہیں کر سکتا۔کسی قدر سزا اس کے ساتھ شامِل ہونی چاہیے اور دوسرے اِس طرف بھی اشارہ ہے کہ بھائیوں سے بھائیوں اور دوستوں سے دوستوں کو مروانے میں تمہارے لئے بہتری ہے ورنہ تمہاری قوم اتنی مغلوب الغضب ہے کہ اگر غیروں کے ہاتھ سے انہیں قتل کروایا گیا تو تمہارے اندر انتقام کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔فَتَابَ عَلَيْكُمْ پھر خدا تعالیٰ نے تمہارے اوپر فضل نازل کیا اور رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہوا۔یعنی اﷲ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو ان سزاؤں کے بعد بھلا دیا اور اگر تم مزید جرائم نہ کرتے تو خدا تعالیٰ تمہارے اس جرم کو کبھی یاد نہ دلاتا۔اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُکی تشریح اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ وہ یقیناً بہت ہی فضل اور رحمت نازل کرنے والا ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور بار بار رحم کرنے والا ہے یعنی بعد کے واقعات خود تمہارے پیدا کردہ ہیں ورنہ اتنے عظیم الشّان احسان کے موقع پر بنی اسرائیل کا اتنا خطرناک جُرم اُس نے پوری طرح معاف کر دیا تھا لیکن افسوس کہ انہوں نے جیسا کہ آئندہ واقعات ظاہر کریںگے خدا تعالیٰ کی اس عظیم الشان بخشش کی قدر نہ کی۔بائبل کا بچھڑے کی پرستش کے نتیجہ میں مقتولین کی تعداد کو تین ہزار قرار دینا مبالغہ ہے جیسا کہ اوپر نوٹ میں خروج کے حوالہ سے بتایا جا چکا ہے بائبل کے بیان کے مطابق تین ہزار آدمی تھے جو اُس دن مارے گئے مگر یہ بات عقل کے بالکل خلاف ہے۔اگر صرف اَئِـمّۃُ الْکُفر ہی اُن میں تین ہزار تھے تو قوم تو لاکھوں کی چاہیئے تھی لیکن اُس وقت کے بنی اسرائیل کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا نہ تو تاریخ سے ثابت ہوتا ہے اور نہ واقعات اس کی اجازت دیتے ہیں۔آج اتنے سامانوں کی موجودگی میں دشتِ سینا میں سے لاکھوں کی قوم آسانی سے نہیں گزر سکتی تو اُس زمانہ میں جبکہ کوئی سامان موجود نہیں تھے یہ لاکھوں کی جمعیت جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے کس طرح گزر سکی تھی۔جہاں تک قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور جہاں تک عقل شہادت دیتی ہے یہ ہجرت کرنے والے بنی اسرائیل صرف چند ہزار افراد تھے ممکن ہے تین قبائل میں سے چند آدمی مارے گئے ہوں اور بائبل کے مبالغہ نویسوں نے اُن کو تین ہزار بنا دیا ہو۔