تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 93

دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَيِّبَةً (النّور:۶۲) جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اپنی جانوں کو سلام کہو اور مراد یہ ہے کہ تمہارے وہ بھائی جو اِن مکانوں میں رہتے ہیں ان کو سلام کہو۔پس فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْکے معنٰی یہ ہیں کہ اپنے اعزّاء و اقرباء کو قتل کرو جیسا کہ بائبل میں بھی مذکور ہے۔بچھڑے کی پرستش کی تحریک کے لیڈروں کو ان کے رشتہ داروں سے قتل کروانے کی حکمت معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ شرک کے سردار ثابت ہوئے تھے اُن کے متعلق یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان کے بھائی یا دوست ہی اُن کو قتل کریں۔اس میں دو فائدے مدِّنظر تھے۔ایک تو یہ کہ جو قتل ہوا اس کو تو قتل کی سزا مِل گئی اور جس نے قتل کیا اس کو بھی ایک رنگ میں سزا مل گئی کہ اسے اپنے ہاتھوں سے اپنے بھائی یا دوست کو مارنا پڑا اور اس کی موت کا نظارہ دیکھنا پڑا۔دوسرا فائدہ اس میں یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی بُنیاد قبائل پر تھی اور جن قوموں کی بُنیاد قبائلی زندگی پر ہوتی ہے اُن میں رقابت بہت شدید ہوتی ہے اگر قتل کرنے والے غیر ہوتے تو بنی اسرائیل کے قبائل میں شدید دشمنی پیدا ہو جاتی اور وہ مقتول کی شرارت کو بھول جاتے اور یہی بات اُن کے دل پر غالب رہتی کہ ان کے ایک بھائی یا دوست کو فلاں غیر شخص نے قتل کر دیا تھا اور اُس کا کینہ اپنے دلوں میں چھپائے رکھتے پس اﷲ تعالیٰ نے مزید فتنہ سے بچانے کے لئے اُن کو یہ حکم دیا کہ قریبی اپنے قریبی کو اور دوست اپنے دوست کو خود مارے تاکہ ایک طرف تو اُس کے دل کو دُکھ پُہنچ کر اس کی رُوحانی اصلاح ہو اور دوسری طرف اُس کا دل اپنے بھائیوں کے کینہ سے محفوظ رہے۔یہاں تو اﷲ تعالیٰ نے اس حکمت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا اور شائد انہوں نے کرھًاہی اس پر عمل کیا ہو گا۔آنحضرت صلعم کے صحابہ اور حضرت موسیٰ کے متبعین میں فرق لیکن رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے طوعاً اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی صحبت میں رہنے والے لوگ اخلاق کے نہایت ہی اعلیٰ معیار پر پہنچ چکے تھے۔جنگ بنوالمصطلق کے موقع پر جب رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جنگ سے واپس تشریف لا رہے تھے تو ایک جگہ پر ایک ہی کنواں تھا اور پانی نکالنے والے زیادہ تھے۔جلدی کی وجہ سے بعض لوگوں میں کچھ اختلاف پیدا ہو گیا۔اتفاق کی بات ہے یہ اختلاف ایک طرف انصار میں اور دوسری طرف مہاجرین میں ہوا اور بغیر کسی ارادے کے دو پارٹیاں سی بن گئیں۔ایک طرف مہاجرین کا گروہ نظر آنے لگا اور ایک طرف انصار کا۔منافقوں کے سردار عبداﷲ بن اُبَی ابن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اس سے فائدہ اُٹھانے کا ارادہ کیا اور انصار کو مخاطب کر کے بڑے زور سے کہا تم نے خود ہی ان لوگوں کو سر پر چڑھا لیا ہے ورنہ اِن کی حیثیت کیا تھی کہ ہمیں ذلیل کرتے۔اب ذرا مدینے واپس پہنچ لینے دو لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ