تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 92
ہوا ہے اور جن کی نسبت آزاد تاریخی شہادت بھی موجود ہے ایسے مواقع پر نتیجہ ہمیشہ یہی نکلا ہے کہ قرآن کریم کی بات سچی اور بائبل کی بات غلط ثابت ہوئی ہے پس تاریخی لحاظ سے بھی قرآن کریم کے بیان کو بائبل کے بیان پر مقدّم کرنا پڑے گا لیکن یہ واقعہ ایک حد تک نفسیاتی اصول سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ جب ایک قوم جُرم کرے تو سارے ہی جُرم کرنے والوں کے خلاف یک دم قدم اُٹھایا جاتا ہے پھر اگر معاف کرنا ہو تو عام قوم کو معاف کر دیا جاتا ہے اور جو زیادہ مجرم ہوں ان کو سزا دے دی جاتی ہے پس اس نفسیاتی اصول کے لحاظ سے بھی قرآن کریم کی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا اظہار کیا۔اور قوم میں ندامت پیدا ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی تو اﷲتعالیٰ نے اُن کی تسلّی کے لئے ان پر ظاہر کر دیا کہ اُن کی قوم من حیث القوم تباہ نہیں کی جائے گی۔اس اعلان کے بعد جو اَ ئمۃ الکفر تھے اُن کے لئے سزا تجویز کر دی گئی لیکن بائبل کے بیان کے مطابق پہلے اﷲ تعالیٰ نے سب کے قتل کا حکم دیا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی فریاد پر جو پہلے دن مارے گئے تھے اُن کے سوا باقیوں کو چھوڑ دیا۔یہ ترتیب نہ صرف غیر طبعی ہے بلکہ ظالمانہ بھی ہے کیونکہ قرآنی بیان کے مطابق تو عام طور پر قوم کو معاف کر دیا گیا تھا اور اَ ئمۃا لکفر کو سزا دی گئی تھی۔لیکن بائبل کے بیان کے مطابق پہلے دن ایک دوسرے کو بنی اسرائیل نے مارا۔اتفاقاً جو پہلے دن مر گئے وہ مر گئے اور جو بعد میں بچ گئے چاہے وہ اَ ئمۃ الکفر تھے یا عوام۔اُن کو معاف کر دیا۔گویا سزا میں جُرم کی اہمیت کو بالکل مدنظر نہیں رکھا گیا صرف وقت کو مدنظر رکھا گیا کہ جو پہلے مارے گئے سو مارے گئے اور جو بعد میں بچ گئے سوبچ گئے۔حالانکہ جو سزا شرعی قانون کے مطابق دی جاتی ہے اس میں اہمیتِ جرم کو ضرور مد نظر رکھا جاتا ہے ہاں قانونِ طبعیّت کے اصول اور ہیں۔پس قرآن کریم کا بیان ہی انصاف اور عدل کے لحاظ سے صحیح معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوںنے نادانی اور رُعب کے ماتحت کام کیا تھا ان کو تو معاف کر دیا اور جو بڑے بڑے مجرم تھے ان کو سزائیں دے دیں۔َاُقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ میں اَنْفُسَکُمْ سے مراد بنی اسرائیل کے مخصوص افراد یا سردار ہیں یاد رکھنا چاہیے کہ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ سے مراد یہ نہیں کہ اپنے آپ کو مار دو بلکہ مراد قوم کے مخصوص افراد یا سردار ہیں۔قرآن کریم میں اِسی سورۃ کی آیت نمبر۸۵ میں آتا ہے۔وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ (البقرة :۸۵) اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نہ نکالو حالانکہ مراد اپنی قوم کے لوگ ہیں کیونکہ کوئی شخص اپنے آپ کو اپنے گھر سے نکالا نہیں کرتا۔اسی طرح سورۃ توبہ آیت ۳۶ میں آتا ہے۔فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ(التوبۃ :۳۶) یعنی حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔اور مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔اسی طرح سورۂ نور میں آتا ہے۔فَاِذَا