تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 91
ہے کہ فی الواقع بعض آدمیوں کو قتل کی سزا دی گئی تھی اور اِس بات کو دیکھتے ہوئے کہ پہلے عفو کا اعلان کرنے کے بعد پھر اﷲ تعالیٰ نے اس موقع کی شناخت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت بعض افراد کو قتل کی سزا بھی دی گئی تھی۔بائبل میں بچھڑے کی پرستش کرنے والوں کے قتل کئے جانے کا واقعہ بائبل میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے۔’’ اور اُس (موسیٰ)نے اُنہیں (بنولاوی کو) کہا کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ہر مرد اپنی کمر پر تلوار باندھے اور ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک تمام لشکر گاہ میں گزرتے پھر و اور ہر مرد تم میں سے اپنے بھائی کو۔ہر ایک آدمی اپنے دوست کو اور ہر ایک آدمی اپنے قریب کو قتل کرے اور بنی لاوی نے موسیٰ کے کہے کے موافق کیا چنانچہ اُس دن لوگوں میں سے قریب تین ہزار مرد مارے پڑے۔‘‘ (خروج باب ۳۲۔آیت ۲۷۔۲۸) پھر آگے لکھا ہے اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جا کر رحم کی درخواست کی اور کہا۔’’ کاش کہ تو اُن کا گناہ معاف کرتا اگر نہیں تو میں تیری منّت کرتا ہوں کہ مجھے اپنے اُس دفتر سے جو تو نے لکھا ہے میٹ دے۔‘‘ (خروج باب ۳۲آیت ۳۲) اس پر خدا تعالیٰ نے بحیثیت قوم تو گناہ معاف کر دیا لیکن مِن حیث الافراد معاف نہ کیا اور کہا کہ قیامت کو پُرسش ہو گی۔(خروج باب ۳۲آیت ۳۴) بنی اسرائیل کو بچھڑا بنانے کے بعد قومی معافی اور فردی سزا دیئے جانے میں بائبل اور قرآن مجید کا اختلاف اور اصل حقیقت بائبل کے ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ پہلے ان کو قتل کی سزا دی گئی۔اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر رحم کیا گیا اور قومی طور پر سزا اُٹھا دی گئی۔لیکن قیامت کے دن کی پرسش کو قائم رکھا گیا۔قرآن کریم اور بائبل کے اِس بیان میں کچھ اختلاف ہے۔قرآن کریم کے بیان کے رو سے قومی معافی پہلے ہوئی اور فردی سزا بعد میں دی گئی لیکن بائبل کے بیان کے مطابق فردی سزا پہلے دی گئی اور پھر قوم کومعافی ملی۔جہاں تک الہامی شہادت کا سوال ہے لازماً یہودیوں اور عیسائیوں کو بائبل کے بیان پر اعتبار ہو گا اور ایک مسلمان کو قرآن کریم کے بیان پر اور جہاں تک تاریخ کا سوال ہے سوائے بائبل اور قرآن کریم کے بیان کے اور کوئی شہادت اس بارہ میں ہمارے پاس نہیں ہے لیکن جن دوسرے مقامات پر بائبل اور قرآن کریم میں اختلاف