تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 90
اس لفظ کے دوسرے الفاظ سے ہے۔بَرْءٌ کے معنے عربی زبان میں عیب و نقص سے پاک ہونے کے ہوتے ہیں۔لفظ بَرَءٌ اور خَلْقٌ میں فرق لسان العرب میں بھی لکھا ہے کہ خَلْقٌ اور بَرْءٌ میں یہ فرق ہے کہ خلق سب قسم کی مخلوق کے لئے آتا ہے لیکن بَرْءٌ کا لفظ عموماًذوی الارواح کی نسبت بولا جاتا ہے چنانچہ عرب کہتے ہیں بَرَءَ اللہُ النَّسِمَۃَ وَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ یعنی ارواح کی پیدائش کے لئے بَرَءَ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش کے لئے خَلَقَ کا، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ نسبتاً کامل مخلوق کی پیدائش کے لئے اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے۔قرآن کریم میں مصائب کی پیدائش کی نسبت بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے (الحدید: ۲۳ ) مگر وہاں بھی چونکہ ذوی الارواح کا ہی ذکر ہے یہ استعمال مشارکت کی وجہ سے ہوا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ بَارِیٌٔ کا عام استعمال غیر ذی الارواح کے لئے جائز ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ(الحشر:۲۵) یعنی اﷲ باریٔ اور خالق ہے ایک جگہ دونوں لفظوں کا استعمال بتاتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک دونوں لفظ ہم معنٰی نہیں ہیں بلکہ دونوں الگ الگ خصوصیت کے حامل ہیں۔پس اﷲ تعالیٰ کے بَارِیٌٔ نام کے یہ معنی ہیں کہ نہ صرف پیدا کرتا ہے بلکہ وہ خاص قسم کے اخلاق اور ترقی کرنے والی قوتیں بھی عطا فرماتا ہے پس اس جگہ پر بَارِیٌٔ کا لفظ استعمال فرما کر ایک لطیف اشارہ شرک کی تردید کے متعلق کیا ہے اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل نے بھی گھڑ گھڑا کر ایک بُت تیار کیا تھا۔ظاہر ہے کہ خالق مخلوق سے اچھا ہوتا ہے اور گھڑنے والا گھڑی ہوئی چیز سے بہتر ہوتا ہے۔ایک تصویر بڑی اچھی چیز ہے مگر اس کا مصوّر اس سے بھی زیادہ قابلِ قدر ہے کیونکہ وہ ویسی ہی بلکہ اس سے بڑھ کر تصویریں بنانے کی قابلیت رکھتا ہے۔تُوْبُوْا اِلٰی بَارِئِکُمْ کہہ کر فرمایا کہ اے نادانو! تم اپنے ہاتھ کی ادنیٰ اور بے جان گھڑی ہوئی چیزوں کے آگے سجدہ کرنے لگ گئے۔لیکن جس نے تم کو کامل طور پر جاندار بنا کر پیدا کیا تھا اس کو بھُول گئے۔اگر صنعت کوئی قابلِ قدر چیز ہے تو صنّا ع اس سے بھی بڑھ کر قابلِ قدر ہے کیونکہ وہ صنعتوں کا منبع ہے۔پس اگر کوئی اچھی صنعت تمہاری توجہ کو کھینچ لیتی ہے تو تمہیں صنعت سے صانع کی طرف توجہ کرنی چاہیے تھی اور شرک کی بجائے توحید کو اختیار کرنا چاہیے تھا۔غرض تُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ کہہ کر توبہ کے مضمون کے علاوہ صرف اﷲ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنے کی ضرورت اور حقیقت پر ایسی روشنی ڈالی ہے کہ تین لفظوں میں ہزروں الفاظ کا مضمون بیان کر دیا گیا ہے۔اُقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ میں قتل کے معنے حقیقۃً قتل کرنے کے بھی ہوتے ہیں فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ۔قتل کے معنی جیسا کہ حلِّ لغات سے ظاہر ہے قتل کے بھی ہوتے ہیں اور قطع تعلق کے بھی ہوتے ہیں۔بعض مفسّرین نے اس جگہ پر قتل سے مراد اپنے نفس کو قتل کرنے یعنی اپنی خواہشات کو مارنے کے لئے ہیں لیکن بائبل سے ظاہر ہوتا