تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 84
کے ماہر تھے آخر انہیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ اپنی قوم میں اپنے آپ کو ذلیل کر کے ایک ایسے شخص کے پیچھے چلتے جو اپنے اندر سچائی کی علامتیں نہ رکھتا تھا۔اسی طرح محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی سچائی کی دلیل خدا تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ اُن کے دشمن تباہ ہو رہے ہیں۔یہ بھی اپنی ذات میں ایک زبردست دلیل ہے مگر جس وقت یہ پچھلی تین دلیلوں سے مِل جائے تو یہ اور زیادہ شان پیدا کر دیتی ہےاسی طرح محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی سچائی کی ایک یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو مفاسد پیدا ہو رہے ہیں ان کو یہ دُور کرتا ہے۔لوگوں کی علمی،اعتقادی اور عملی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے۔یہ بات بھی اپنی ذات میں ایک بڑی بھاری دلیل ہے لیکن جس وقت یہ اُن دوسری دلیلوں کے ساتھ مل جاتی ہے تو یہ اور بھی زیادہ شان پیدا کر دیتی ہے۔ہم یہ تو مان لیتے ہیں کہ بعض الہام طبعی بھی ہوتے ہیں اور خیالی بھی ہوتے ہیں اور یہ بھی ہم مان لیتے ہیں کہ طبعی اور خیالی الہام بعض دفعہ سچے بھی ہو جاتے ہیں لیکن یہ ماننا ہمارے لئے بڑا مشکل ہو جاتا ہے کہ خیالی اور طبعی الہام جو دماغی کمزوری کا نتیجہ ہوتے ہیں اور شیطانی الہام جو دماغی اور اخلاقی کمزوری کا نتیجہ ہوتے ہیں انہوں نے اس شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جس کی زندگی کی پاکیزگی کا سارا ملک شاہد تھا۔چلو ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ایسے طبعی یا خیالی یا شیطانی الہام ایک ایسے شخص کو ہو گئے جس کی پاکیزہ زندگی کا سارا ملک شاہد تھا لیکن ہمارے لئے یہ ماننا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک راستباز تھا اس کا دماغ بگڑ گیا لیکن باوجود اس کے ملک کے نہایت سمجھدار طبقہ کا ایک حصّہ جنہوں نے اسے قریب سے دیکھا تھا اور جن کی اپنی عقل کا ملک گواہ تھا اس کی سچائی پر گواہی دینے لگا پھر چلو ہم یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ یہ غلطی بھی ہو گئی مگر یہ بات ہمارے لئے ماننی کتنی ناممکن ہو جاتی ہے کہ اس زمانہ کے غلط خیالات خواہ عقیدہ کے لحاظ سے ہوں یا علمی لحاظ سے ہوں یا عمل کے لحاظ سے ہوں ان کی اصلاح بھی اس شخص سے ہوئی۔معترض مانتا ہے کہ شرک بُرا ہے اور معترض مانتا ہے کہ اس شرک کو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے ہی دُور کیا۔پھر وہ یہ بھی مانتا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم الہام کے مدعی تھے اور اُس کے نزدیک اُن میں سے بعض اتفاقی طور پر پورے بھی ہو جاتے تھے۔وہ مانتا ہے کہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی دعوے سے پہلے بڑی پاکیزہ تھی۔وہ مانتا ہے کہ ان کے ماننے والے ایسے لوگ تھے جنہوں نے ان کی زندگی کا قریب سے مطالعہ کیا تھا اور وہ خود بھی اپنی عقل اور اپنے علم اور اپنے نیک اعمال کی وجہ سے مُلک میں مشہور تھے۔وہ مانتا تھا کہ جنہوں نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو مانا وہ اتفاقی طور پر جیت گئے اور ان کے دشمن اتفاقی طور پر ہار گئے اور پھر وہ یہ بھی مانتا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو شرک کے دُور کرنے کی بھی توفیق ملی۔جس کی غلطی کو وہ خود بھی تسلیم کرنے والا ہے اسی طرح اور بیسیوں عقائد کی اصلاح کی توفیق