تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 83
بات یہ ہے کہ ہر نبی کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی شریعت دی جاتی ہے خواہ وہ نئی ہو یا پرانی ( یعنی سابق نبی کی شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا جاتا ہے) اسی طرح فُرْقَان دیا جاتا ہے۔یعنی ایسے نشانات دیئے جاتے ہیں جن کے ذریعہ حق اور باطل میں تمیز ہو سکے اور یہ فرقان ہی ان کی سچائی کو پہچاننے کا حقیقی ذریعہ ہوتا ہے۔ہر زمانہ میں لوگوں نے اِس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے سچّے نبیوں کو ماننے سے اِنکار کیا ہے یا جھوٹے نبیوں کے فریب میں آئے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کے انبیاء کی صداقت کِسی ایک چیز پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ انہیں بیسیوں قسم کے دلائل دیئے جاتے ہیں جو بحیثیت مجموعی ان کی سچائی یا ان کے درجہ کی بلندی پر گواہ ہوتے ہیں بعض لوگ صرف چند خواب یا الہام دیکھ کر اپنے آپ کو مامور قرار دینے لگ جاتے ہیں حالانکہ خوابیں اور الہام خیالی بھی ہو سکتے ہیں بیماریوں کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔طبعی بھی ہو سکتے ہیں۔شیطانی بھی ہو سکتے ہیں اور رحمانی بھی ہو سکتے ہیں۔صرف کِسی خواب یا الہام کا سچا ہو جانا بھی اُس کے رحمانی ہونے کا ثبوت نہیں ہو سکتا کیونکہ طبعی اور خیالی باتیں بھی کئی دفعہ پوری ہو جاتی ہیں۔انبیاء کے الہام تو اپنے اندر ایک خاص شان رکھتے ہیں۔ان کے اندر وسعت ہوتی ہے۔زمانہ کے مفاسد کا علاج ہوتا ہے اور زمانہ کے حالات پر وہ حاوی ہوتے ہیں۔پس خالی الہام بعض کمزور طبائع کے لئے امتیاز کا موجب نہیں ہوتے مگر الہام کے علاوہ انبیاء کو اپنے دعویٰ سے پہلے ایک پاکیزہ اور ممتاز زندگی مِلا کرتی ہے۔قرآن کریم میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی نسبت اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(یونس :۱۷) الہام میں غلطی دماغی کمزوری کا نتیجہ کہلا سکتی ہے لیکن اِس شان کے انسان کی طرف دماغی کمزوری کا منسوب کرنا مشکل ہو جاتا ہے پس گو الہام کی سچائی بھی ایک دلیل ہے۔گو دعوے سے پہلے کی زندگی کی پاکیزگی بھی ایک دلیل ہے مگر یہ دونوں دلیلیں مِل کر ایک تیسری دلیل سچائی کی پیدا کر دیتی ہیں جو اپنی ذات میں بہت بڑی شان رکھتی ہے اور یہ فُرْقَان ہے۔پھر قرآن کریم میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی سچائی کا ایک ثبوت یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ اُن لوگوں کو تو دیکھو جو اس پر ایمان لائے ہیں وہ خود اپنی ذات میں ایک بھاری ثبوت ہیں۔آخر انسان مختلف درجات اور طبقوں کے ہوتے ہیں۔کوئی بداخلاق اور طامع لوگ ہوتے ہیں۔کوئی جاہل اور جلدی فریب میں آ جانے والے ہوتے ہیں مگر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لانے والے لوگوں میں سے بعض تو وہ تھے جنہوں نے خود اپنے ملک میں اپنے فن اور اپنی عقل اور اپنے علم کی وجہ سے خاص مرتبہ حاصل کیا ہوا تھا۔ان لوگوں کا آپؐ پر ایمان لانا خود اپنی ذات میں آپؐ کی صداقت کی ایک بڑی بھاری دلیل تھی۔وہ آدمی جو نہ جذباتی تھے نہ جاہل تھے نہ بد عمل تھے۔دلیل اور عقل کے پیچھے چلنے والے ،علم رکھنے والے، قربانیاں کرنے والے، غرباء کی امداد کرنے والے اور مختلف فنون