تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 85

آپ ؐ کو ملی جن میں سے بعض اصلاحات کے صحیح ہونے کو دشمنوں میں سے ایک فریق اور بعض کے صحیح ہونے کو دوسرا فریق مانتا ہے۔اب اس سارے مجموعہ کو دیکھتے ہوئے کون شخص کہہ سکتا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نعوذباﷲ فاترالعقل تھے یا دماغ کی کمزوری کے مریض تھے یانعوذ باﷲشیطان سے تعلق رکھتے تھے۔انبیاء میں کثرت سے ایسے دلائل کا جمع ہو جانا جو ان کی صداقت کو پوری طرح واضح کر دیں فرقان کہلاتا ہے ایک ایک دلیل میں الگ الگ تو شبہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ایک ایک دلیل کو الگ الگ تو اتفاقی قرار دیا جا سکتا ہے مگر ان سب امور اور ایسے ہی اَور سینکڑوں امور کے ایک شخص کی ذات میں جمع ہو جانے کو توکسی صورت میں بھی اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔اگر اس اجتماع کے ہوتے ہوئے بھی شبہ باقی رہ سکتا ہے تو پھر دنیا کی کسی بات کو بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا۔اسی مجموعے کا نام میرے نزدیک فُرْقَان ہے۔یہی مجموعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملا۔یہی مجموعہ حضرت داؤد علیہ ا لسلام کو مِلا۔یہی مجموعہ حضرت عیسٰی علیہ ا لسلام کو ملا۔یہی مجموعہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو مِلا اور یہی مجموعہ آج بانیء سلسلہ احمدیہ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ و ا لسلام کو ملا ہے۔انبیاء کو فرقان کا ملنا ان کے صادق ہونے کی زبردست دلیل ہے دشمن ہمیشہ ایک ایک چیز کو لے کر اعتراض کرنے لگ جاتا ہے حالانکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اعتراض تو ہر چیز پر ہو سکتا ہے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ بیسیوں قسم کے دلائل کا مجموعہ اس میں کِس طرح جمع ہو گیا ہے۔اگر ایسا مجموعہ کسی میں جمع ہو تو یقیناً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے فُرْقَان ملا ہے اور یقیناً وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گا۔یہ فُرْقَان کبھی کسی جھوٹے آدمی کو نصیب نہیں ہو سکتا۔ہاں محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو دوسرے نبیوں سے ایک امتیاز حاصل ہے اور وہ یہ کہ دوسرے نبیوں کو کتاب اور اس کے علاوہ فُرْقَان ملا مگر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو فرقان الگ بھی ملا۔قرآن کریم کو فرقان کہے جانے کی وجہ اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر جو کتاب نازل ہوئی اسے بھی فُرْقَان بنایا گیا۔تورات اپنی سچائی کے لئے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے دوسرے معجزات کی تائید کی محتاج تھی۔حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام کے الہامات دوسرے معجزات کی تصدیق کے محتاج تھے۔وید اورژند کا بھی یہی حال ہے لیکن محمدرسول اﷲ صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم کی کتاب اپنی ذات میں بھی فُرْقَانہے یعنی وہ ایک زندہ کتاب ہے اور اگر دوسرے معجزات لوگوں کو بھول بھی جائیں تب بھی وہ اپنی سچائی کا ثبوت اپنے اندر شامل رکھتی ہے اسی وجہ سے اس کا نام فُرْقَان رکھا گیا ہے اور کسی سابق الہامی کتاب کا نام فُرْقَان نہیں رکھا گیا کیونکہ وہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے دوسرے دلائل کی محتاج ہیں مگر قرآن کریم اپنی سچائی کا ثبوت اپنے اندر رکھتا ہے۔اسی وجہ سے قرآنِ کریم