تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 82

ہے۔تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا (الفرقان:۲) برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے یعنی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر فُرْقَان اُتارا تاکہ وہ ساری دنیا کے لئے نذیر بنے۔اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ فُرْقَان قرآن کریم کا نام ہے۔اسی طرح قرآن کریم کے متعلق سورۂ بقرہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ (البقرہ:۱۸۶)یعنی رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں اﷲ نے قرآن کریم اُتارا ہے جس قرآن میں ایک تو لوگوں کے لئے ہدایت ہے دوسرے اس میں دلائل ہیں ہدایت کے اور دلائل ہیں فُرْقَان والے۔یعنی ایسے دلائل جو حق اور باطل میں تمیز کر دیتے ہیں۔اس آیت کے ذریعہ قرآن کریم کو فُرْقَان پر مشتمل بتایا گیا ہے قرآن کریم میں فرقان کے ایک معنی مصیبت اور مشکل سے نجات کے بھی آتے ہیں چنانچہ سورۂ انفال میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا (الانفال:۳۰) اے مومنو اگر تم اﷲ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تو اﷲ تعالیٰ تمہارے لئے ہر مصیبت اور مشکل سے بچنے کا راستہ نکالتا رہے گا۔ان آیات پر غور کرنے سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ درحقیقت فُرْقَانکے معنے حق و باطل میں تمیز کرنے والی چیز کے ہی ہیں۔ہر نبی کو فرقان دیا جاتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے فُرْقَان کا وعدہ کیا ہے تو اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ مشکلات کے وقت ان کو ایسی تمیز بخش دے گا کہ وہ صحیح راستہ معلوم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔اگر حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو فُرْقَان ملا تھا تو اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ اُنہیں کوئی ایسی چیز ملی تھی جس سے وہ اپنے دوست اور دشمن اور حق اور باطل میں تمیز کر سکتے تھے اور اگر رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو کوئی چیز ایسی ملی تھی جس کو ہم فُرْقَان کہہ سکتے ہیں تو اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ آپ کو ایسی چیز ملی تھی جس سے آپؐ اور آپؐ کے اتباع حق اور باطل میں تمیز کر لیتے تھے اور آپؐ کے مخالف اگر چاہتے تو اس کی مدد سے حق کو سمجھ سکتے تھے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ فُرْقَان کے معنے محدود کئے جائیں اور اسے بدر کی جنگ یا سمندر سے بچ نکلنے کے معجزوں تک محدود کیا جائے۔بیشک بدر کی جنگ کو بھی فرقان کہا گیا ہے اور بیشک سمندر سے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کا بچنا بھی ایک فرقان تھا مگر صرف یہی دو چیزیں رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو نہیں ملیں۔ان کے علاوہ بیسیوں معجزات حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو اور ہزاروں معجزات رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کو ملے تھے۔پس جہاں کسی خاص معجزے کا نام قرآن کریم نے فُرْقَان رکھا ہے (جیسے بدر کے معجزہ کا) وہاں تو ہم اُس کے وہ خاص معنے کریںگے لیکن جہاں کسی خاص معجزے کا ذکر نہیں کیا وہاں ہم فُرْقَان کے معنوں کو محدود نہیں کر سکتے۔اصل