تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 4

کے معنے ہوں گے۔تم یاد کرو۔نِعْمَتِی۔اَلنِّعْمَۃُ کے معنے ہیں(۱) اَلصَّنِیْعَۃُ وَالْمِنَّۃُ احسان۔(۲) مَا اُنْعِمَ بِہٖ عَلَیْکَ مِنْ رِّزْقٍ وَ مَالٍ وَغَیْرِہٖ۔وہ مال یا رزق یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز جو بطور انعام ملے۔(۳) اَلْمَسَرَّۃُ۔خوشی۔(۴) اَلْیَدُ الْبَیْضَاءُ الصَّالِحَۃُ ایسا احسان جس میں کوئی کدورت او رکمی نہ ہو۔وَفِی الْکُلِّیَاتِ اَلنِّعْمَۃُ فِی اَصْلِ وَضْعِھَا ’’اَلْحَالَۃُ الَّتِیْ یَسْتَلِذُّ بِھَا الْاِنْسَانُ‘‘ وَھٰذَا مَبْنِیٌّ عَلٰی مَا اشْتَھَرَ عِنْدَ ھُمْ مِنْ اَنَّ النِّعْمَۃَ بِالْکَسْرِ لِلْحَالَۃِ وَ بِالْفَتْحِ لِلْمَرَّۃِ۔اور کلّیاتِ اَبی البقاء میں یوں لکھا ہے کہ نعمت اصل وضع کے لحاظ سے اس حالت کو کہتے ہیں جس سے انسان لذّت اُٹھاتا ہے اور یہ اس بناء پر ہے کہ حالت بیان کرنے کے لئے عربی زبان میں فِعْلَۃٌ اور کسی کام کے ایک ہونے کا اظہار کرنے کے لئے فَعْلَۃٌ کا وزن لاتے ہیں اور نِعْمَۃٌ ن کی زیر سے چونکہ فِعْلَۃٌ کے وزن پر ہے اس لئے اس میں نعمت والی حالت کے معنے پائے جاتے ہیں۔وَنِعْمَۃُ اللّٰہِ۔مَا اَعْطَاہُ اللّٰہُ لِلْعَبْدِ مِـمَّا لَایَتَمَنّٰی غَیْرَہٗ اَنْ یُّعْطِیَہٗ اِیَّاہُ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اپنے بندے پر وہ احسان ہے جس کے بعد بندہ اس کے متعلق کسی اور سے خواہش نہیں رکھتا۔اس کی جمع اَنْعُمٌ اور نِعَمٌ آتی ہے اور جب فُـلَانٌ وَاسِعُ النِّعْمَۃِ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے وَاسِعُ الْمَالِ یعنی فلاں مالدار ہے۔(اقرب) اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ۔اَنْعَمْتُ اَنْعَمَ سے واحد متکلّم کا صیغہ ہے۔اَنْعَمْتَ۔اِنْعَامٌ سے ہے۔انعام کے معنی فضل کرنے اور زیادہ کے ہیں۔(اقرب) یہ لفظ ہمیشہ اسی وقت استعمال کیا جاتا ہے جبکہ منعم علیہ یعنی جس پر احسان ہوا ہو عقل والی ہستی ہو۔(مفردات) غیرذوی العقول کی نسبت مثلاً گھوڑے بیل کی نسبت کبھی نہیں کہیں گے کہ فلاں شخص نے اس گھوڑے یا بیل پر انعام کیا ہاں یہ کہیں گے کہ فلاں انسان پر انعام کیا۔فَضَّلْتُکُمْ۔فَضَّلْتُ فَضَّلَ سے واحد متکلّم کا صیغہ ہے اور فَضَّلَہٗ عَلٰی غَیْرِہٖ کے معنے ہیں۔جَعَلَ لَہٗ مَزِیَّۃً عَلَیْہِ وَ حَکَمَ لَہٗ بِالْفَضْلِ دوسرے کے مقابل پر ا س کو خوبی کے اعتبار سے عمدہ قرار دیا۔اور خوبیوں کی بنا پر اسے دوسروں سے افضل قرار دیا۔نیز فَضَّلَہٗ کے معنے ہیں صَیَّرَہٗ اَفْضَلَ مِنْہُ اسے دوسروں کے مقابل ممتاز اور افضل قرار دیا (اقرب)پس فَضَّلْتُکُمْ کے معنے ہوںگے مَیں نے تم کو فضیلت دی اور دوسروں سے ممتاز بنا دیا۔اَلْعٰلَمیْن۔عَالَمٌ کی جمع ہے اور مخلوق کی ہر صنف اور قسم عَالَم کہلاتی ہے۔(مفردات امام راغب) اور عَالَمُوْنَ یا عَالَمِیْنَ کے سوا اس کی جمع عَلَالِمْ یا عَوَالِمْ بھی آتی ہے اور غیر ذوی العقول کی صفات میں سے ون