تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 5

یا یان سے صرف عَالَم یا یَاسَم دو لفظوں کی جمع بنتی ہے۔اور عَالَم مخلوق کو اس لئے کہتے ہیں۔کہ اس سے خالق کا پتہ لگتا ہے (اقرب) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ عَالَم کی جمع عالَمُوْنَ یا عَالَمِیْنَتب بنائی جاتی ہے جبکہ ذوی العقول کا ذکر ہو۔مثلاً انسان، فرشتے وغیرہ۔مگر یہ قاعدہ لغت کے بھی خلاف ہے۔اور قرآن کریم کے محاورہ کے بھی خلاف۔لغت کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔قرآن کریم کی یہ آیت اس پر شاہد ہے۔قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ۔قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْن قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ۔قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْۤ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ۔قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَيْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ۔(الشعر اء:۲۴تا۲۹) اس آیت میں عَالَمِین میں انسانوں کے سوا آسمان زمین اور ان کے درمیان کی سب اشیاء اور مغرب اور مشرق اور ان کے درمیان کی سب اشیاء کو عالمین میں شامل بتایا گیا ہے۔اسی طرح سورۃ حٰمٓ سجدة میں ہے۔قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِيْهَا وَ قَدَّرَ فِيْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِيْۤ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآىِٕلِيْنَ۔(حٰمٓ سجدة:۱۰،۱۱) اس آیت میں بھی زمین اور پہاڑوں وغیرہ کو عالمین میں شامل کیا گیا ہے۔اَلْعَالَمِیْنَ کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک حضرت مسیح موعودؑ بھی تحریر فرماتے ہیں۔اِنَّ الْعَالَمِیْنَ عِبَارَۃٌ عَنْ کُلِّ مَوْجُوْدٍ سِوَی اللّٰہِ … سَوَاءً کَانَ مِنْ عَالَمِ الْاَرْوَاحِ اَوْمِنْ عَالَمِ الْاَجْسَاِم… اَوْ کَالْشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَغَیْرِ ھِمَا مِنَ الْاَجْرامِ (اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد۱۸صفحہ ۱۳۹،۱۴۰) یعنی عالم سے مراد جاندار اور غیر جاندار سب اشیاء ہیں۔اسی طرح سورج ،چاند وغیرہ کی قسم کے اجرام فلکی۔غرض سب جاندار یا غیر جاندار اس میں شامل ہیں۔جو صرف ذوی العقول کے لئے اسے قرار دیتے ہیں وہ وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ (قلم :۵۳) کی آیت سے استدلال کرتے ہیں مگر یہ استدلال درست نہیں۔کیونکہ جب اس کا استعمال غیر ذوی العقول کے لئے قرآن کریم میں موجود ہے تو اس آیت کے متعلق صرف یہ کہا جائے گا کہ عام لفظ خاص معنوں میں استعمال ہوا ہے چنانچہ قرآن کریم میں یہی لفظ اس سے بھی خاص معنوں میں استعمال ہوا ہے فرماتا ہے وَ اَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ(البقرہ :۴۸) اے یہود ہم نے تم کو سب جہانوں پر فضیلت دی ہے حالانکہ مراد صرف اپنے زمانہ کے لوگ ہیں نہ کہ ہر زمانہ کے لوگ۔کیونکہ خیر الامم مسلمانوں کو کہا گیا ہے۔پس خاص معنوں کا استعمال جبکہ عام معنوں میں یہ لفظ استعمال ہو چکا ہے اس کے معنوں کو محدود نہیں کرتا۔اور حق یہی ہے کہ عَالَمِیْن میں ہر قسم کی مخلوق شامل ہے۔خواہ جاندار